خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 507

507 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء فرمایا ” میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اوّل خدا کی تو حید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوئی تھی۔كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ ( آل عمران : 104) یا در کھوتالیف ایک اعجاز ہے۔یادرکھو جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرے، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔اس کا انجام اچھا نہیں۔میں ایک کتاب بنانے والا ہوں۔آگے ذکر کیا ہے کہ اس میں نام چھاپوں گا۔فرمایا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ کسی بازیگر نے دس گز کی چھلانگ ماری ہے۔دوسرا اس میں بحث کرنے بیٹھتا ہے اور اس طرح پھر کینہ کا وجود پیدا ہو جاتا ہے۔یاد رکھو بغض کا جدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی۔وہ ضرور ہو گی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ تعالیٰ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے۔بخل ہے، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یادرکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں، جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھائیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو وہ خشک ٹہنی ہے۔اس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے مگر وہ اس کو سرسبز نہیں کر سکتا۔بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے ، پس ڈرو۔میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 336 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر مخالفین کے شر سے بچنے کے لئے اور مغفرت کے لئے اور قوم کے سیدھے راستے پر چلنے کے لئے بھی ایک دعا ہے۔فرمایا: رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ آنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الممتحنة: 5-6 )۔اے ہمارے رب تجھ پر ہی ہم تو کل کرتے ہیں اور تیری طرف ہی ہم جھکتے ہیں اور تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔اے ہمارے رب ہمیں ان لوگوں کے لئے ابتلاء نہ بنا جنہوں نے کفر کیا اور اے ہمارے رب ہمیں بخش دے۔یقیناً تو کامل غلبے والا اور صاحب حکمت ہے۔رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا فرما کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اے اللہ تیری باتوں اور حکموں پر عمل نہ کر کے ہم کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھیں جس سے احمدیت اور اسلام کمزور ہو اور اس وجہ سے مخالفین اور کفار کو موقع ملے کہ وہ اسلام پر حملہ کریں۔kh5-030425