خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 489
خطبات مسرور جلد چہارم 489 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 2006 66 میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔فرمایا: ”لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ اسلئے کہ وہ خادم دین ہو۔بلکہ اسلئے کہ دنیا میں ان کا کوئی وارث ہو۔اور جب اولاد ہوتی ہے تو اس کی تربیت کا فکر نہیں کیا جاتا۔نہ اس کے عقائد کی اصلاح کی جاتی ہے اور نہ اخلاقی حالت کو درست کیا جاتا ہے۔یہ یاد رکھو کہ اس کا ایمان درست نہیں ہوسکتا جو اقرب تعلقات کو نہیں سمجھتا۔یعنی قریبی تعلقات اور رشتوں کو نہیں سمجھتا۔جب وہ اس سے قاصر ہے تو اور نیکیوں کی امید اس سے کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اولاد کی خواہش کو اس طرح پر قرآن میں بیان فرمایا ہے رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا (الفرقان آیت: 75) یعنی خدا تعالیٰ ہم کو ہماری بیویوں اور بچوں سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرمادے اور یہ تب ہی میسر آ سکتی ہے کہ وہ فسق و فجور کی زندگی بسر نہ کرتے ہوں بلکہ عباد الرحمن کی زندگی بسر کرنے والے ہوں اور خدا کو ہر شے پر مقدم کرنے والے ہوں۔اور آگے کھول کر کہہ دیا وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا اولا دا گر نیک اور متقی ہو تو ان کا امام ہی ہوگا۔اس سے گویا متقی ہونے کی بھی دعا ہے“۔(احکم جلد 5 نمبر 35 مورخہ 24 ستمبر 1901ء صفحہ 10-12 - ملفوظات جلد اول صفحہ 562-563 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہیں وہ معیار جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہر احمدی میں اس کی اولاد کے بارے میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے آپ نے اس قرآنی حکم کے مطابق اولاد کو ڈھالنے کے لئے تربیت اور دعا پر بہت زور دیا تھا۔اور جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے اس کے لئے ہر کوئی پہلے اپنی حالت بدلے ورنہ یہ دعا اپنے نفس کو دھوکہ ہے اور جھوٹ ہے۔اپنے نفس کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔فرمایا کہ متقی اولاد کے لئے پہلے خود صالح اعمال بجالانے ہوں گے۔دعا کی قبولیت کے لئے اپنی وہ حالت بنانی ہوگی جس کا میں نے شروع میں ذکر کیا ہے۔جب یہ حالت بن جائے گی تو پھر انشاء اللہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے، دعائیں قبول ہوں گی۔پس ہر احمدی بچہ عمومی طور پر جماعت کی امانت ہے اور ہر وہ احمدی جس نے اپنے بچے وقف نو میں دیئے ہوئے ہیں کہ وہ دین کے خادم بنیں، وہ اس گروہ میں شامل ہوں جو دنیا کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والا گروہ ہے ، وہ ایسے بچوں کے باپ ہیں جنہوں نے ایک عمر کو پہنچنے کے بعد اسماعیل کی طرح اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش