خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 485 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 485

485 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم ہیں، مختلف قسم کی نہیں ہیں جو بعض اجرام فلکی کے نقصانات سے تمہیں محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ہر ایک چیز اپنے اپنے بتائے ہوئے وقت ، رفتار اور دائرے میں گردش کر رہی ہے۔پھر رات اور دن ، چاند اور سورج ہماری زمین کی پیدائش پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔یعنی زمین میں جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں، مختلف موسم ہیں، بارش ہے ، سردی ہے، گرمی ہے اور اسکے حساب سے اللہ تعالیٰ نے مختلف فصلیں اور پھل، درخت اور پورے مہیا کئے ہوئے ہیں۔باغ وغیرہ ہیں جن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو۔تو جو لوگ ان چیزوں پر غور کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرتے ہیں، اس پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں وہ اس بات پر بھی قائم ہوتے ہیں کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کے بارہ میں جو بتایا وہ اگر حق ہے تو آخرت بھی حق ہے۔پس یہ سب دیکھ کر ایک مومن دعا کرتا ہے کہ ہماری غلطیوں کو ، کوتاہیوں کو معاف فرما۔انکی وجہ سے ہمیں کسی پکڑ میں نہ لے لینا اور ہمیں آخرت کے عذاب سے بچا۔یہ دعا اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں سکھائی ہے۔فرماتا ہے الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْارْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( آل عمران : 192 ) وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں، کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمان و زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور بے ساختہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہر گز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔پاک ہے تو پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ یا الہی تو اس سے پاک ہے کہ کوئی تیرے وجود سے انکار کر کے نالائق صفتوں سے تجھے موصوف کرے۔ایسی باتیں تیری طرف منسوب کرے جو مکمل اور کامل نہیں ہیں جو تیرے مقام سے بہت گری ہوئی چیزیں ہیں۔جن میں کمزوریاں، خامیاں اور سقم ہیں۔” سوتو ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا۔یعنی تجھ سے انکار کرنا عین دوزخ ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 120) فرمایا ” مومن وہ لوگ ہیں جو خدائے تعالیٰ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے بستروں پر لیٹے ہوئے یاد کرتے ہیں اور جو کچھ زمین و آسمان میں عجائب صنعتیں موجود ہیں ان میں فکر اور غور کرتے رہتے ہیں اور جب لطائف صنعت الہی ان پر کھلتے ہیں۔یعنی اس کائنات کے جو باریک سے باریک راز ہیں وہ اُن پر کھلتے ہیں جب وہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء کے نظارے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ خدایا تو نے ان صنعتوں کو بے کار پیدا نہیں کیا۔یعنی وہ لوگ جو مومن خاص ہیں صنعت شناسی اور ہیئت دانی سے دنیا پرست لوگوں کی طرح صرف اتنی ہی غرض نہیں رکھتے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء ہیں ان کو دیکھ کر