خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 472
خطبات مسرور جلد چہارم 472 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 ہوئے اس کے بیان کی تو حاجت ہی نہیں جب عیسائی جنگجوؤں نے اس بات کو ریکارڈ کیا کہ وہ ان مسلمان بے دینوں کی کٹی پھٹی لاشوں کے درمیان ٹخنے ٹخنے خون میں لت پت تھے“۔(Ruth Cranston ' World Faith', p:155 Ayer publishing (1949) پھر ڈیون پورٹ لکھتے ہیں یہ بات یقینی طور پر کامل سچائی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر مسلمان مجاہدین اور ترکوں کی جگہ ایشیا کے حکمران مغربی شہزادے ہو گئے ہوتے تو مسلمانوں کے ساتھ اس مذہبی رواداری کا سلوک نہ کرتے جو مسلمانوں نے عیسائیت کے ساتھ کیا۔کیونکہ عیسائیت نے تو اپنے ان ہم مذہبوں کو نہایت تعصب اور ظلم کے ساتھ تشددکا نشانہ بنایا جن کے ساتھ ان کے مذہبی اختلافات تھے“۔(John Davonport ,'An Apology for Muhammad and the Qoran' (1st published 1869) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف میں لوگوں کو زبر دستی مسلمان بنانے کا حکم ہے۔(فرماتے ہیں کہ ) معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو نہ اپنی ذاتی کچھ عقل ہے اور نہ علم صرف پادریوں کا کاسہ لیس ہے۔کیونکہ پادریوں نے اپنے نہایت کینہ اور بغض سے جیسا کہ ان کی عادت ہے، محض افتراء کے طور پر اپنی کتابوں میں یہ لکھ دیا ہے کہ اسلام میں جبر مسلمان بنانے کا حکم ہے۔سو اس نے اور اس کے دوسرے بھائیوں نے بغیر تحقیق اور تفتیش کے وہی پادریوں کے مفتر یا نہ الزام کو پیش کر دیا۔قرآن شریف میں تو کھلے کھلے طور پر یہ آیت موجود ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الغَيِّ ( البقرہ : 257) یعنی دین میں کوئی جبر نہیں، تحقیق ہدایت اور گمراہی میں کھلا کھلا فرق ظاہر ہو گیا ہے۔پھر بھی جبر کی کیا حاجت ہے۔تعجب کہ باوجود یکہ قرآن شریف میں اس قدر تصریح سے بیان فرمایا ہے کہ دین کے بارے میں جبر نہیں کرنا چاہئے پھر بھی جن کے دل بغض اور دشمنی سے سیاہ ہور ہے ہیں۔ناحق خدا کے کلام پر جبر کا الزام دیتے ہیں۔اب ہم ایک اور آیت لے کر منصفین سے انصاف چاہتے ہیں کہ وہ خدا سے ڈر کر ہمیں بتلاویں کہ کیا اس آیت سے جبر کی تعلیم ثابت ہوتی ہے یا برخلاف اس کے ممانعت جبر کا حکم بپایہ ثبوت پہنچتا ہے۔اور وہ آیت یہ ہے کہ ﴿ وَاِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلمَ اللهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ ﴾ (الجز نمبر 10 سورۃ التوبہ ) اگر تجھ سے اے رسول! کوئی مشرکوں میں سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دے دو اور اس وقت تک اس کو اپنی پناہ میں رکھو کہ وہ اطمینان سے خدا کے کلام کو سن سمجھ لے اور پھر اُس کو اس کی امن کی جگہ پر واپس پہنچا دو۔یہ رعایت ان لوگوں کے حق میں اس وجہ سے کرنی ضرور ہے کہ یہ لوگ اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔اب ظاہر ہے کہ اگر قرآن شریف جبر کی تعلیم کرتا تو یہ حکم نہ دیتا کہ جو کا فرقرآن شریف کو سننا چاہے تو جب وہ سن چکے