خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 466

خطبات مسرور جلد چہارم 466 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے کہ میں لات اور عزی کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ہوں۔آج خدا کے رستہ میں لڑتے ہوئے پیچھے نہیں رہوں گا۔اور جب لڑائی کے خاتمہ پر دیکھا گیا تو ان کی لاش نیزوں اور تلوار کے زخموں سے چھلنی تھی۔ان کی مالی قربانی کے بارہ میں آتا ہے کہ غنیمت کا جتنا مال عکرمہ کو ملتا تھا وہ صدقہ دے دیا کرتے تھے۔خدمت دین میں بے دریغ خرچ کرتے تھے۔تو یہ تبدیلیاں جو دلوں میں پیدا ہوتی ہیں یہ تلوار کے زور سے پیدا نہیں ہوتیں۔(اصابہ واسد الغابہ واستیعاب) غیر مسلموں کا الزام ہے کہ زبر دستی مذہب تبدیل کرتے تھے تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جو ان باتوں کو جھٹلاتے ہیں۔ہم دیکھ ہی آئے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کیا تھی۔ایک واقعہ کا ذکر ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ یعنی جو مسلمان کسی ایسے غیر مسلم کے قتل کا مرتکب ہوگا جو کسی لفظی یا عملی معاہدہ کے نتیجہ میں اسلامی حکومت میں داخل ہو چکا ہے وہ علاوہ اس دنیا کی سزا کے، قیامت کے دن بھی جنت کی ہوا سے محروم رہے گا۔پھر آپ کے خلفاء کا کیا طریق تھا۔روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرنے میں سختی کی جارہی تھی۔یہ دیکھ کر حضرت عمر فور ارک گئے اور غصہ کی حالت میں دریافت فرمایا کہ کیا معاملہ ہے۔عرض کیا گیا کہ یہ لوگ جزیہ ادا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی طاقت نہیں ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان پر وہ بوجھ ڈالا جائے جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے ، انہیں چھوڑ دو۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص دنیا میں لوگوں کو تکلیف دیتا ہے وہ قیامت کے دن خدا کے عذاب کے نیچے ہو گا۔چنانچہ ان لوگوں کو جزیہ معاف کر دیا گیا۔(كتاب الخراج فضل فى من تجب عليه الجزية ) حضرت عمرؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاکیدی ارشادات کے ماتحت اپنی غیر مسلم رعایا کا اس قدر خیال تھا کہ انہوں نے فوت ہوتے وقت خاص طور پر ایک وصیت کی جس کے الفاظ یہ تھے کہ میں اپنے بعد میں آنے والے خلیفہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلامی حکومت کی غیر مسلم رعایا سے بہت نرمی اور شفقت کا معاملہ کرے،ان کے معاہدات کو پورا کرے، ان کی حفاظت کرے، ان کے لئے ان کے دشمنوں سے لڑے اور ان پر قطعا کوئی ایسا بوجھ یا ذمہ داری نہ ڈالے جوان کی طاقت سے زیادہ ہو۔(كتاب الخراج صفح 720 ) اگر زبر دستی مسلمان کیا جاتا تو پھر یہ صورت کیوں ہوتی۔پھر خیبر کے یہودیوں کے ساتھ آنحضرت