خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 464 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 464

خطبات مسرور جلد چهارم 464 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 وفات کا وقت قریب آیا تو فرمایا کہ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ، جہاں جانا چاہتے ہو چلے جاؤ۔تو اسلام میں آزادی مذہب کی یہ تعلیم اور یہ عمل ہیں۔ایک غلام پر بھی سختی نہیں کی گئی۔اور پوپ صاحب کہتے ہیں کہ اسلام کے مذہب میں ظلم او سختی رکھی گئی ہے۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے۔﴿وَقُلْ لِلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَبَ وَالْا مِّيِّنَ وَ أَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ﴾ ( آل عمران:21 ) اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو کہہ دے کہ جنہیں کتاب دی گئی ہے اور جو اتی ہیں یعنی بے علم ہیں کہ کیا تم اسلام کو قبول کرتے ہو۔پس اگر وہ فرمانبرداری اختیار کریں ، اسلام قبول کر لیں تو وہ ہدایت پا گئے اور اگر وہ منہ پھیر لیں تو تیرے ذمہ صرف پہنچادینا ہے۔اللہ تعالیٰ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔یعنی اب یہ خدا کا کام ہے وہ خود ہی فیصلہ کرے گا کہ کس کو پکڑنا ہے، کس کو سزا دینی ہے، کس سے کیا سلوک کرنا ہے۔پس یہ احکام ہیں۔اور یہ آخری آیت جو میں نے پڑھی ہے، یہ فتح مکہ کے بعد کی ہے جب طاقت تھی۔پس بودے اعتراضات کی بجائے ان کو عقل اور انصاف سے کام لینا چاہئے۔اسلام میں جبر کی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے جبر کیا۔آپ کو تو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ کوئی منافقت سے اسلام قبول کرے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک کا فرقیدی پیش ہوا اور اس نے آپ سے عرض کی کہ مجھے قید کیوں کیا گیا ہے، میں تو مسلمان ہوں۔آپ نے فرمایا اب نہیں پہلے اسلام لاتے تو ٹھیک تھا، اب تم جنگی قیدی ہو اور رہائی حاصل کرنے کے لئے مسلمان بن رہے ہو۔آپ نے اس کو جبر سے مسلمان بنانا نہیں چاہا۔آپ تو چاہتے تھے کہ دل اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جائیں۔چنانچہ بعد میں اس قیدی کو دو مسلمانوں کی آزادی پر آزاد کر دیا گیا۔اسلام میں جنگوں کا حکم صرف اُس وقت تک ہے جب تک دشمن جنگ کر رہا ہے یا فتنے کے حالات پیدا کر رہا ہے۔جب حالات ٹھیک ہو جائیں اور فتنہ ختم ہو جائے تو فرمایا تمہیں کوئی حق نہیں کہ جنگ کرو۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلَّهِ۔انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ ﴾ (البقرة : 194) یعنی اے مسلمانو! تم اُن کفار سے جنگ کر و جو جنگ کرتے ہیں، اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اور ہر شخص اپنے خدا کے لئے نہ کسی ڈر اور تشدد کی وجہ سے) جو دین بھی چاہے رکھ سکے۔اور اگر یہ کفار اپنے ظلموں سے باز آجائیں تو تم بھی رک جاؤ کیونکہ تمہیں ظالموں کے سوا کسی کے خلاف جنگی کارروائی کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم اُن کفار سے جو تم سے لڑتے ہیں ، اُس وقت تک لڑو کہ ملک میں فتنہ ندر ہے۔اس کے بارے میں ایک جگہ ذکر آیا ہے۔ابن عمر کہتے ہیں کہ ہم نے اس حکم الہی کی تعمیل یوں کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب مسلمان بہت تھوڑے تھے اور جو شخص اسلام لا تا