خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 460 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 460

خطبات مسرور جلد چہارم 460 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 حوالے سے بھی بات کہتے ، ان کے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ ایسی بات کا اظہار کیا جاتا۔اس وقت جبکہ دنیا میں مسلمانوں کے خلاف مغرب میں کسی نہ کسی حوالے سے نفرت کے جذبات پیدا کئے جارہے ہیں ، پوپ کا ایسی بات کرنا جلتی پر تیل ڈالنے والی بات تھی۔چاہے تو یہ تھا کہ وہ کہتے کہ گو آج بعض شر پسند اسلامی تنظیموں نے متشددانہ طریق اپنایا ہوا ہے لیکن اسلام کی تعلیم اس کے خلاف نظر آتی ہے اور دنیا میں امن قائم رکھنے کے لئے ہمیں مل جل کر کام کرنا چاہئے تا کہ معصوم انسانیت کو تباہی و بربادی سے بچایا جا سکے۔اس کی بجائے انہوں نے اپنے ماننے والوں کو اس راستے پر لگانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام کی تعلیم تو ہے ہی یہ۔میرا خیال تھا کہ پوپ سمجھے ہوئے انسان ہیں اور عالم آدمی ہیں اور اسلام کے بارے میں بھی کچھ علم رکھتے ہوں گے لیکن یہ بات کر کے انہوں نے بالکل ہی اپنی کم علمی کا اظہار کیا ہے۔جس مسیح کی خلافت کے وہ دعویدار ہیں اس کی تعلیم پر چلتے ہوئے ان کو تو دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی ، اس نے تو دشمن سے بھی نیک سلوک کرنے کی تعلیم دی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی طرف غلط باتیں منسوب کر کے ایک طرف تو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلا گیا ہے ( جیسا کہ میں نے کہا ہے ) اور پھر رد عمل کے طور پر جن کو جذبات پر کنٹرول نہیں ہے وہ ایسی حرکتیں کر جائیں گے جس سے مسلمانوں کے خلاف ان کو مزید Propaganda کا موقع مل جائے گا۔دوسرے پوپ کے پیروکار اور مغرب میں رہنے والے لوگ جو اسلام کو شدت پسند مذہب سمجھتے ہیں ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف مزید نفرت پھیلے گی۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور دنیا کو فتنے اور فساد سے بچائے۔احمدیوں کو تو ہمیشہ ہی یہ دعا کرنی چاہئے اور یہ جو سوال اٹھائے گئے اور آگے اپنا لیکچر دیا۔دعا کے ساتھ ہر ملک میں اس کے جواب بھی دینے چاہئیں۔ہمارے تو یہی دو ہتھیار ہیں جن سے ہم نے کام لینا ہے، کسی اور رد عمل کا نہ کبھی احمدی سے اظہار ہوا ہے اور نہ انشاء اللہ ہوگا۔میں پوپ کے اعتراضات کا خلاصہ پڑھ دیتا ہوں جو انہوں نے قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے۔جرمنی سے یہ تفصیل منگوائی گئی ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے ایک مکالمہ پڑھا تھا جس کا متن ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے شائع کیا ہے اور یہ پرانا مکالمہ ایک علم دوست قیصر مینوئیل اور ایک فارسی عالم کے درمیان 1391ء میں انقرہ میں ہوا تھا اور پھر وہی عیسائی عالم اس کو تحریر میں لایا۔لیکن ساتھ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کیونکہ یہ مکالمہ عیسائی عالم کی طرف سے شائع ہوا ہے اس لئے انہوں نے اپنی زیادہ بات کی ہے۔اپنی ایمانداری کا تو یہیں پتہ لگ گیا کہ مسلمان عالم کی باتوں کا ذکر بہت کم ہے اور اپنی باتیں زیادہ کی ہیں۔بہر حال (جو سوال اٹھائے ہیں ) وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اس لیکچر میں ایک نکتے پر بات کرنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ اس میں قیصر جہاد کا ذکر کرتا ہے اور قیصر کو یقینا علم تھا کہ مذہب کے معاملے میں اسلام میں جبر نہیں ہے۔سورۃ بقرہ کی آیت 256 کا حوالہ دے رہے ہیں۔آگے کہتے ہیں قیصر یقینا قرآن میں