خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 453
453 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم تھی آواز دے کر بلایا۔اس کی جھولی میں روپیہ ڈالتے ہوئے اسے صدقہ کو قبول کرنے اور مریض کے لئے جن کے واسطے صدقہ دیا تھا دعا کرنے کے لئے درخواست کی۔اس کے بعد میں فوراً مریض کے کمرے میں واپس آکر نماز و دعا میں مشغول ہو گیا۔اور سورہ فاتحہ کے لفظ لفظ کو خدا تعالیٰ کی خاص توفیق سے حصول شفا کے لئے رقت اور تضرع سے پڑھا۔اس وقت میری آنکھیں اشکبار اور دل رقت اور جوش سے بھرا ہوا تھا اور ساتھ ساتھ ہی مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی شانِ کریمانہ کا جلوہ ضرور دکھائے گا۔کہتے ہیں کہ پہلی رکعت میں میں نے سورہ یسین پڑھی اور رکوع و سجود میں بھی دعا کرتا رہا۔جب میں ابھی سجدے میں ہی تھا کہ بشیر حسین چار پائی پر اٹھ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ میرے شاہ جی کہاں ہیں ؟۔میری ماں کہاں ہے؟ میں نے اس کی آواز سے سمجھ لیا کہ دعا کا تیر نشانے پر لگ چکا ہے۔اور باقی نماز اختصار سے پڑھ کر سلام پھیرا۔میں نے بشیر حسین سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔اس نے کہا میں نے پانی پینا ہے۔اتنے میں بشیر کی والدہ آئیں اور مجھے باہر سے ہی کہنے لگیں کہ مولوی صاحب آپ کس سے باتیں کر رہے تھے۔میں نے کہا کہ اندر آ ئیں۔اور جب وہ پردہ کر کے کمرے میں آئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ عزیز بشیر چار پائی پر بیٹھا ہے۔اور پانی مانگ رہا ہے۔تب انہوں نے اللہ کا بہت شکر کیا اور بچے کو پانی پلایا۔( حیات قدسی جلد پنجم صفحہ 31-32) حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے بارے میں بابا اندر صاحب جو ان کے ملازم تھے وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ شاہ صاحب گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے دائیں کلائی ٹوٹ جانے کی وجہ سے بیمار تھے۔کورٹ سے بار بار سمن آتے تھے۔( کسی گواہی کے لئے آتے ہوں گے ) ڈپٹی کیشو داس کی عدالت میں مقدمہ تھا شہادت کے لئے حاضر ہونا تھا۔تو مجسٹریٹ نے یہ سمجھ کر کہ آپ عمداً حاضری سے گریز کر رہے ہیں۔سول سرجن سیالکوٹ کی معرفت حاضری کا حکم نامہ بھجوایا اور ناراضگی کا اظہار کیا۔سول سرجن کے تاکیدی حکم پر آپ کو مجبوراً حاضر ہونا پڑا۔عدالت سے باہر مجسٹریٹ پاس سے گزرا۔(آپ کھڑے تھے وہ قریب سے گزرا ) اس کی ہیئت سے غصہ ظاہر ہوتا تھا ( اس کی حالت سے غصہ ظاہر ہو رہا تھا ) آپ نے مجھے کہا کہ ڈپٹی صاحب خفا معلوم ہوتے ہیں۔خوف ہے کہ مجھ پر نا پسندیدہ جرح کر کے میری خفت نہ کریں ( یعنی وہ بلاوجہ مجھے طنزیہ فقروں سے شرمندہ کرنے کی کوشش نہ کرے)۔اس لئے وضو کے لئے پانی لاؤ تا کہ عدالت کی طرف سے آواز پڑنے سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر لوں۔چنانچہ آپ نے نہایت خشوع و خضوع سے نفل ادا کئے۔آپ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو مجسٹریٹ نے اپنا سر پکڑ لیا اور ریڈر کو کہا میرے سر میں شدید درد شروع ہو گیا ہے۔میں پچھلے کمرے میں آرام کرتا ہوں تم ڈاکٹر