خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 449
449 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم صحابہ تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے لیکن سردار عبدالرحمن صاحب کو تبلیغ کی طرف غیر معمولی توجہ تھی۔اس کی ایک وجہ تھی۔اس کا ذکر یوں ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ آپ کی بقیہ عمر کی مدت کتنی رہ گئی ہے۔جب یہ مدت پوری ہونے کے قریب آئی تو ماسٹر صاحب نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی ، بڑے روئے ، گڑ گڑائے کہ یا الہی ابھی تو میرے بچوں کی تعلیم و تربیت مکمل نہیں ہوئی۔بہت سی ذمہ داریاں میرے سر پر ہیں، میرے سپرد ہیں، میری عمر میں اضافہ فرمایا جائے۔کہتے ہیں کہ ابھی دومنٹ ہی دعا میں گزرے ہوں گے کہ آپ کو الہام ہوا۔وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ - يعنى اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی عمر میں اضافہ کر دیا کرتا ہے جو لوگوں کے لئے نافع وجود بن جائیں۔اس پر آپ نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کو تبلیغ احمدیت بہت پسند ہے اس لئے آپ نے تبلیغی اشتہارات شائع کئے اور روزانہ تبلیغ کرنے لگے اور پہلی بار جو مدت بتائی گئی تھی اس سے کئی سال زیادہ گزر گئے۔اصحاب احمد جلد ہفتم صفحہ 131 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا یہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔اس پر ہر احمدی کو بھی توجہ کرنی چاہئے۔اپنی قبولیت دعا کے ضمن میں وہ ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ 1908ء میں جب میں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا تو میرے ساتھ ہندو، مسلمان اور چار پانچ عیسائی بھی تھے۔ایس پی کلاس میں ٹرینینگ حاصل کرتے تھے۔ان میں ایک پٹھان لڑکا یوسف جمال الدین اور ایک مشن سکول کا ہیڈ ماسٹر تھا، پھر عیسائی ہو گیا تھا۔تو ان عیسائیوں نے مجھے عصرانہ پر بلایا (چائے کی دعوت پر بلایا ) اور کہا کہ آپ نے اچھا کیا کہ سکھوں کا مذہب ترک کر کے اسلام اختیار کیا۔اب ایک قدم اور آگے بڑھائیں اور عیسائی بن جائیں۔ٹرینڈ ہو کر مسلمان آپ کو کیا تنخواہ دیں گے۔ہم تو یہاں سے فارغ ہوتے ہی تین تین سو روپے) پر متعین ہو جائیں گے۔مسلمانوں سے آپ کو چالیس پچاس روپے ملیں گے، زیادہ سے زیادہ سورو پیٹل جائے گا۔تو میں نے انہیں کہا کہ میں زندہ خدا کا شائق ہوں۔اگر تم زندہ خدا سے میرا تعلق جوڑ دو تو میں عیسائی ہو جاتا ہوں۔یوسف جمال الدین نے پوچھا زندہ خدا سے کیا مراد ہے۔کہتے ہیں کہ میں نے کہا انجیل میں لکھا ہے کہ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو کھولا جائے گا ڈھونڈ و تو خدا کو پاؤ گے۔اور قرآن کریم میں بھی لکھا ہے کہ بحالت اضطرار دعا کی جائے تو اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے۔اگر یہ نعمت عیسائیت میں دکھا دو تو میں عیسائی ہو جاؤں گا۔تو کہنے لگے کہ ویدوں میں اور انجیل میں اور قرآن کے بعد وحی الہام کا سلسلہ تو بند ہو گیا ہے، اب الہام نہیں ہوسکتا۔میرے دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی سنتا اور دیکھتا تو