خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 408

خطبات مسرور جلد چہارم 408 خطبہ جمعہ 18/اگست 2006 صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے خلاف یہ دعا کی کہ اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيْعَ الْحِسَابِ اهْزِم | الاحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمُهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ - ( بخاری کتاب المغازی باب غزوة الخندق و هي الاحزاب حدیث نمبر (4115) اے اللہ جو کتاب کو اتارنے والا ہے اور حساب لینے میں بہت تیز ہے تو گروہوں کو شکست دے، اے اللہ انہیں پسپا کر اور ہلا کر رکھ دے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود بیرونی حملہ اور اندرونی منافقت کے اللہ تعالیٰ نے کس طرح مدد فرمائی۔وہ لوگ جو مدینے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے آئے تھے، کس طرح خائب و خاسر ہو کر واپس چلے گئے۔منافق قبیلہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے نامراد اور برباد کر دیا۔اس کی مختصر تفصیل اس طرح ہے کہ بنونضیر کو ان کی غداری کی وجہ سے جب مدینہ سے جلا وطن کیا گیا تو انہوں نے اسلام کے خلاف سب طاقتوں کو جمع کر کے مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا اور تقریباً دس ہزار سے پندرہ ہزار فوج تیار کر کے مدینہ پر حملہ آور ہوئے اور اس زمانے میں یہ بہت بڑی فوج تھی۔اس حملے کی خبر پا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا اور حضرت سلمان فارسی کے مشورے کے مطابق مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ ہوا اور اس کے لئے حضرت سلمان فارسی کے مشورے کے مطابق ہی مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی تا کہ کوئی دشمن اندر نہ آسکے۔اور غربت کا زمانہ تھا، خندق کھود نے کے بعد اندرتو محصور ہو گئے لیکن راشن کی کمی کی وجہ سے اور خوراک کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کی حالت بہت نازک تھی۔تو اس عرصہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے کئی نشانات دکھائے اور کئی قبولیت دعا کے واقعات بھی ہوئے ، یہ بتانے کے لئے کہ تمہاری دعا قبول ہوئی اور دشمن تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔اللہ تعالیٰ نے آئندہ بڑی بڑی بادشاہتوں کے زیر نگیں ہونے کی خوشخبریاں بھی آپ کو دیں۔چنانچہ جب آپ بھوک سے نڈھال تھے ، صحابہ کا بھی یہی حال تھا، آپ نے اور صحابہ نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔صحابہ خندق کھودرہے تھے کہ اس وقت راستہ میں ایک چٹان آگئی جوٹوٹ نہیں رہی تھی تو آپ نے کدال لے کر وہ چٹان تو ڑی اور اس توڑنے کے دوران جب آپ نے تین دفعہ کدال ماری تو وہ چٹان ٹوٹی۔اور ہر دفعہ جب آپ کدال مارتے تھے تو ایک حکومت کے ملنے کا نظارہ اللہ تعالیٰ آپ کو دکھاتا تھا۔چنانچہ پہلی دفعہ جب آپ نے کدال ماری تو کدال مارنے پر آپ کو مملکت شام کی چابیاں دی گئیں اور سرخ محلات دکھائے گئے ، دوسری دفعہ جب آپ نے کدال ماری تو اس پر فارس کی کنجیاں آپ کو دی گئیں اور مدائن کے سفید محلات آپ کو دکھائے گئے اور پھر جب تیسری دفعہ آپ نے چٹان پر ضرب لگائی تو یمن کی چابیاں آپ کو دی گئیں اور صنعا کے دروازے آپ کے لئے کھولے گئے۔