خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 407

407 خطبہ جمعہ 18 اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم حضرت ابو ہریرہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہر وقت موجود رہنے اور آپ کی بابرکت باتیں سننے اور انہیں یا در رکھنے کا اس قدر شوق تھا کہ جب آپ شروع میں آئے ہیں تو ذہن اتنا تیز نہیں تھا، تمام باتیں یاد نہیں رہتی تھیں تو بڑے فکر مند ہوتے تھے۔چنانچہ انہوں نے ایک روز اپنی اس کمزوری کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔حضرت ابو ہریرہ خود ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں آپ سے جو باتیں سنتا ہوں بھول جاتا ہوں۔آپ نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے چادر پھیلائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔کہتے ہیں اس دعا کے بعد بہت ساری باتیں اور حدیثیں میں نے سنیں مگر میں ان میں سے ایک بھی بات نہیں بھولا۔(ترمذى كتاب المناقب باب مناقب لابی هریرة حدیث نمبر (3835 اور آج دیکھیں جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ آپ کی روایات ہم تک پہنچیں اور آج سب سے زیادہ قابل اعتبار راویوں کی صف میں آپ صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کے مال میں خیر و برکت کی دعا دی۔کہتے ہیں اس کے بعد جس چیز کو ہاتھ لگاتے تھے اس میں خیر و برکت پیدا ہو جاتی تھی۔چنانچہ روایت میں اس طرح ذکر ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر و برکت کی دعا دی۔عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے نتیجے میں خدا کا اتنا فضل ہوا کہ اگر میں کسی پتھر کوبھی اٹھاتا تھا تویہ امید ہوتی تھی کہ اس کے نیچے سونا ہوگا۔اسی کشائش اور آسودگی کی حالت میں جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کے ترکہ کے سونے کو کلہاڑوں سے توڑ کر تقسیم کیا گیا تھا۔آپ کی چار بیویاں تھیں اور ہر بیوی کے حصے میں ایک ایک لاکھ دینار آئے۔یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بیماری کے دوران ایک بیوی کو طلاق دی تھی اور اس کو 80 ہزار دینار دینے کا ارشاد فرمایا تھا۔آپ کی وصیت کے مطابق جو صدقات اور وظائف وہ اپنی زندگی میں دیا کرتے تھے ان کے لئے 50 ہزار درہم الگ مقرر کئے۔(الشفاء لقاضی عیاض جلد اوّل باب الرابع فيما اظهره على يديه من المعجزات صفحه200ایڈیشن2002ء) پھر جنگ احزاب کا واقعہ ہے۔جنگ احزاب میں بڑے بڑے قبائل اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں کی اس وقت انتہائی خوف کی حالت تھی۔اس وقت آپ نے مسلمانوں کو فتح اور کفار کی شکست کے لئے دعا کی۔چنانچہ روایت میں آتا ہے، حضرت عبداللہ بن ابی اوفی کہتے ہیں کہ رسول اللہ