خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 406
خطبات مسرور جلد چهارم 406 خطبہ جمعہ 18 اگست 2006 دیتا تھا تو وہ انکار کرتی تھی ، آج میں نے دعوت دی تو انہوں نے آپ کے متعلق نازیبا باتیں کیں جنہیں میں نا پسند کرتا ہوں۔آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری والدہ کو ہدایت دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کہ اے اللہ ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے۔کہتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے خوش خوش واپس ہوا۔جب میں گھر کے دروازے کے پاس آیا تو وہ بند تھا، میری والدہ نے میرے قدموں کی آواز سنی تو کہا اے ابو ہریرہ ادھر ہی ٹھہر جاؤ۔ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے پانی کے گرنے کی آواز سنی تو اس کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ان کی والدہ نے غسل کیا، کپڑے پہنے، دو پٹہ اوڑھا اور دروازہ کھول دیا۔پھر انہوں نے کہا کہ اے ابو ہریرہ میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور خوشی سے میں رورہا تھا ، میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ! خوش ہو جائیں، خدا تعالیٰ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور ابو ہریرہ کی ماں کو ہدایت دے دی۔آپ نے اللہ کی حمد و ثناء کی اور نیک کلمات ادا فرمائے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ، یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اور میری ماں کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور ان کو ہمارا محبوب بنادے۔ابوہریرہ کہتے ہیں اس پر آپ نے دعا کی کہ اے اللہ اپنے اس بندے ابو ہریرہ اور اس کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنادے اور مومنین کو ان کا محبوب بنادے۔(مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل ابی ہریرة الدوسی حدیث نمبر 6396) دیکھیں ایک تو آپ کی والدہ کے قبول اسلام کی صورت میں فوری قبولیت دعا کا اثر اور دوسری دعا اس طرح قبول ہوئی ، جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ بے شمار احادیث حضرت ابو ہریرہ کی روایت کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں جن کی وجہ سے حضرت ابو ہریرہا کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے۔آج تک ایک سچا مسلمان جب بھی کسی روایت کوسنتا ہے جو ابو ہریرہ کی طرف سے آتی ہے یا کسی بھی حدیث کو ( حضرت ابو ہریرہ کی بات ہورہی ہے اس لئے ) جب کسی روایت کو سنتا ہے جو اس کی ہدایت کا باعث بنتی ہے تو حضرت ابو ہریرہ کے لئے دعا بھی نکلتی ہے اور ان کے لئے محبت کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں۔اور ہونے چاہئیں۔جنہوں نے آخری سالوں میں آنے کے باوجود بے شمار روایات ہم تک پہنچا ئیں اور اس نیک کام کرنے کے لئے کئی کئی دن فاقے برداشت کئے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے در سے اس لئے نہیں اٹھتے تھے کہ کہیں کوئی بات سننے سے رہ نہ جائے۔پس یہی لوگ تھے جو اللہ اور رسول کی محبت کی وجہ سے مومنوں کے بھی محبوب بن گئے اور اب رہتی دنیا تک انشاء اللہ بنتے چلے جائیں گے۔