خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 401
401 خطبہ جمعہ 18/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم مواقع پر آپ کی باتوں اور دعاؤں کو قبولیت کا درجہ دے کر اپنا پیارا ہونے کا جو اللہ تعالیٰ نے اظہار فرمایا ہے، اس کا ذکر کروں گا۔ظاہر ہے اس عظیم نبی کی زندگی کے ان قبولیت دعا کے واقعات کا احاطہ تو نہیں ہو سکتا، بیشمار واقعات ہیں۔مختلف مواقع کی چند جھلکیاں پیش کی جاسکتی ہیں جو اس وقت میں پیش کروں گا۔ایک روایت میں آتا ہے مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں عبداللہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ جب قریش نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور نافرمانی کی تو آپ نے ان کے خلاف یہ دعا کی - اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعِ كَسَبْعِ يُوْسُفَ (بخارى كتاب التفسير تفسير سورة الدخان باب ربنا اكشف عنا العذاب۔۔۔حدیث نمبر (4822) اے اللہ ! میری مشرکین کے مقابلے پر اس طرح سات سالوں کے ذریعہ سے مددفرما جس طرح تو نے یوسف کی سات سالوں کے ذریعہ سے مدد فرمائی تھی۔مشرکین مکہ کو ایک شدید قحط نے آگھیرا یہاں تک کہ ہر چیز کو اس نے ملیا میٹ کر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں اور مردار کھایا اور زمین سے دھوئیں کی مانند چیز نکلنے لگی۔ابوسفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم تو ہلاک ہوگئی ہے، اللہ سے دعا کریں وہ ان سے اس عذاب کو دور کر دے۔آپ نے دعا کی اور فرمایا تم پھر اس کے بعد سرکشی کرنے لگ جاؤ گے۔دعا تو میرے سے کردار ہے ہو لیکن دوبارہ وہی حرکتیں کرو گے۔مسلمانوں کے ساتھ کفار نے جو ظلم کیا اس پر جب اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا عذاب قحط سالی کی صورت میں نازل ہوا تو پھر بنی نوع کی ہمدردی کی جو تڑپ آپ کے دل میں تھی اس کے تقاضا کے تحت دشمن کے حق میں دعا کی کہ عذاب دور ہو جائے۔لیکن ساتھ یہ بھی فرما دیا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مجھے علم ہے کہ تم بھی جس طرح پہلے کرتے رہے تھے یہ عذاب دور ہونے کے باوجود بعد میں وہی حرکتیں کرو گے لیکن پھر بھی میں تمہاری تکلیف کی وجہ سے تمہارے لئے دعا کرتا ہوں۔تو جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ دشمن کو بھی آپ کی دعاؤں پر یقین تھا لیکن اناؤں اور ضد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے تھے۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب عذاب دور کر دیتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا انکار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح نبیوں کا انکار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک دفعہ سخت قحط پڑ گیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرمار ہے تھے کہ ایک بدو کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! مال مویشی خشک سالی سے ہلاک ہو گئے ، پس اللہ سے ہمارے لئے دعا کریں۔آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں