خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 400 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 400

400 خطبہ جمعہ 18/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چہارم پروردگار میں بھی ایک عام آدمی اور عام انسانوں کی طرح غصے میں آ جاتا ہوں اور خوش بھی ہوتا ہوں جس طرح دوسرے لوگ خوش ہوتے ہیں پس اگر میں کسی انسان کے بارے میں بددعا کروں اور وہ درحقیقت اس کا اہل نہ ہو تو میری یہ دعا ہے کہ اے میرے اللہ ! میری یہ بددعا اس کی پاکیزگی اور قیامت کے دن درجات کی بلندی کا باعث بن جائے۔پس یہ تھا آپ کو اپنے خدا پر اپنی دعاؤں کی قبولیت کے بارے میں یقین۔اور یہ اس لئے تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ محبوب اپنے محبوب کی ذراسی بات کو بھی ٹال دے۔آپ کے اس مقام کا دشمن کو بھی یقین تھا، وہ چاہے آپ کے خدا کی طرف سے ہونے کے قائل تھے یا نہیں یا دعا کی قبولیت کے قائل اس طرح تھے جس طرح ایک مسلمان ہوتا ہے یا نہیں۔کیونکہ اکثر لوگ متاثر ہونے کے باوجود اپنی اناؤں کے جال میں پھنس کر اس کو کچھ اور نام دیتے ہیں، یہ نہیں کہتے کہ اللہ کے تعلق کی وجہ سے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔تو بہر حال جیسا کہ میں نے کہا آپ کی بات کے پورے ہونے کے دشمن بھی قائل تھے جبھی تو جنگ احد میں ایک کافر نے آپ کے نیزے سے لگے ہوئے ہلکے سے زخم پر بھی شور مچا دیا تھا کہ مر گیا، مر گیا۔لوگوں نے کہا کہ اتنا ہل کا سا زخم ہے، اس سے تم کس طرح مرجاؤ گے؟ اس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دفعہ کہا تھا کہ تم میرے ہاتھ سے مرو گے تو آج اگر محمدصلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر تھوک بھی دیتے تو خدا کی قسم میں مرجاتا۔(السيرة النبوية لابن هشام غزوة احد شأن عاصم بن ثابت صفحه 535,536 ایڈیشن (2001) | چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ وہ اس زخم سے ہی چند روز میں مرگیا۔آپ نے یہ جو دعا مانگی تھی کہ میری بددعا کا اگر کوئی اہل نہ ہو تو اسے دعا میں بدل دینا لیکن یہ دشمن اسلام اس بات کا اہل تھا، اس لئے اپنے انجام کو پہنچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ( ہزار ہزار درود اور سلام اس پر یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 119,118) اس وقت میں اللہ تعالیٰ کے اس محبوب، پیارے اور عالی مرتبے کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ مختلف