خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 399

خطبات مسرور جلد چهارم 399 (33) خطبہ جمعہ 18/اگست 2006 اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق باللہ اور آپ کی دعاؤں کی قبولیت کا دشمن کو بھی یقین تھا فرمودہ مورخہ 18 اگست 2006ء(18 رظہور 1385 هش) مسجد بیت الفتوح لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کروایا کہ قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ﴾ ( آل عمران : 32) یعنی تو کہہ کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو اس صورت میں وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے قصور بخش دے گا ، تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔جس ہستی کا ، جس شخصیت کا اللہ تعالیٰ سے یہ تعلق ہو کہ اس کی پیروی کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو جائے اور اس کے واسطے سے دعا مانگنے سے گناہ معاف ہو جائیں اس کا اپنا تعلق خدا تعالیٰ۔کس قدر عظیم ہو گا اور اس کی عام باتوں کو بھی یقیناً خدا تعالیٰ دعا کے رنگ میں قبول کر لیتا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کے اس اظہار کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ میں بشری تقاضے کے تحت ایک عام بات بھی کروں تو وہ دعا کا رنگ اختیار کر سکتی ہے اور کسی دوسرے کے لئے ابتلاء یا امتحان کا موجب بن سکتی ہے۔اس لئے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب سے یہ شرط رکھی ہے کہ اے میرے ނ