خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 397

خطبات مسرور جلد چهارم 397 خطبه جمعه 11/اگست 2006 آداب الدعا سے نا واقعی ہے اور خدا تعالیٰ کو آزمانا ہے۔اور نرے اسباب پر گر رہنا‘ صرف دنیاوی کوششیں کرتے رہنا اور دعا کو لاشی محض سمجھنا یہ دہریت ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کا انکار ہے ، مذہب سے دوری ہے۔یقینا سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی۔وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے اردگرد مسلح سپاہی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔لیکن جو دعاؤں سے لا پروا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو درندوں اور موذی جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہو جائے گا اور اس کی ہڈی بوٹی نظر نہ آئے گی۔اس لئے یا درکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ ہی یہی دعا ہے۔یہی دعا اس کے لئے پناہ ہے اگر وہ ہر وقت اس میں لگا رہے۔‘“ 66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 148-149 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ہم خوش قسمت ہیں، جیسے کہ میں نے کہا، کہ زمانے کے امام نے دعا کی فلاسفی کو کھول کر ہمارے سامنے رکھا اور واضح فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب کا صحیح فہم وادراک عطا فر مایا۔پس آج ہم نے نہ صرف اپنی بقا کے لئے ، اپنی ذات کی بقا کے لئے ، اپنے خاندان کی بقا کے لئے ، جماعت احمدیہ کی ترقیات کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دینی ہے بلکہ امت مسلمہ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر پوری انسانیت کی بقا کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ کرنی ہے جس کی آج بہت ضرورت ہے۔پس ہر احمدی کو ان دنوں میں ( ان دنوں سے میری مراد ہے ہمیشہ ہی ) اور آج کل خاص طور پر جب حالات بڑے بگڑ رہے ہیں، بہت زیادہ اپنے رب کے حضور جھک کر دعائیں کرنی چاہئیں۔مضطر کی طرح اسے پکاریں۔بے قرار ہو کر اسے پکاریں۔آج امت مسلمہ جس دور سے گزر رہی ہے اور مسلمان ممالک جن پر یشانیوں میں مبتلا ہیں اس کا حل سوائے دعا کے اور کچھ نہیں۔اور دعا کے اس محفوظ قلعے میں جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذکر فرمایا آج احمدی کے سوا اور کوئی نہیں۔پس امت مسلمہ کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اندرونی اور بیرونی فتنوں سے نجات دے۔ان کو اس پیغام کو سمجھنے کی توفیق دے جو آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم امت کو دیا تھا۔یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالی اس دنیا سے ظلم ختم کرے۔انسان اپنے پیدا کرنے والے خدا کی طرف رجوع کرے۔اسے پہچان کر اپنی ضدوں اور اناؤں کے جال سے باہر نکلے۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کو آواز نہ دے بلکہ اس کی طرف جھکے۔اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے والا ہو، اس بات کو سمجھنے والا ہو کہ میری طرف آؤ، خالص ہو کر مجھے پکارو تا کہ میں تمہاری دعاؤں کو سن کر اس دنیا کو جس کو تم سب کچھ سمجھتے ہو ، جو کہ حقیقت میں عارضی اور چند روزہ ہے، تمہارے لئے امن کا گہوارہ بنادوں تا کہ پھر نیک اعمال کی وجہ سے تم لوگ میری دائمی جنت کے وارث بنو۔