خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 370

خطبات مسرور جلد چہارم 370 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس جلسے پر آنے والے مہمانوں کو آپ لوگوں میں سے کسی سے بھی کسی قسم کی کوئی شکایت نہ ہو۔ہمیشہ یادرکھیں کہ ہمارا سب سے بڑا ہتھیار دعا ہے اس لئے ہمیشہ ہر وقت اپنے آپ کو دعا میں مصروف رکھیں اور اپنے کسی اچھے کام کو اپنے تجربے یا علم پر محمول نہ کریں کہ یہ کام میرے تجربے یا علم کی وجہ سے ہوا ہے بلکہ ہر اچھا کام جو ہم میں سے کوئی بھی انجام دیتا ہے یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہے۔اس لئے اس کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے اس کے حضور جھکنا بہت ضروری ہے۔پس ان دنوں میں جہاں آنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی دعاؤں میں وقت گزاریں وہاں کارکنان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اپنے اس خدا کو کبھی نہ بھولیں جو ہمیشہ ہماری مددفرماتا رہا ہے۔افسران صیغہ جات بھی یادرکھیں کہ وہ اس افسری کے ذریعہ سے قوم کی خدمت پر مامور کئے گئے ہیں۔جہاں انہوں نے اپنے کام کا جائزہ لینا ہے وہاں تربیتی لحاظ سے اپنے کارکنان کا بھی جائزہ لیتے رہنا ہے اور ہر وقت یہ کوشش کرنی ہے کہ مہمانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے والے ہوں اور دعاؤں پر زور دیتے ہوئے اپنے کام انجام دینے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت ہمارے پاس ایک معزز مہمان ہیں۔مہمانوں کی مہمان نوازی کا ذکر چل رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے آج ایک معزز مہمان دیئے ہیں، یہ الحاج ڈاکٹر احمد تیجان کا با صاحب ہیں جو سیرالیون کے صدر مملکت ہیں۔وہ یہاں دورے پر آئے ہوئے تھے تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ جمعہ ہمارے ساتھ مسجد میں پڑھیں گے۔اللہ تعالیٰ ان کی نیک خواہشات کو پورا کرے اور ان کو جزا دے اور ان کے ملک میں امن اور سلامتی کے مستقل حالات پیدا کرے۔اور ان دنوں میں یہ بھی دعا کریں ، دعا ئیں تو اب شروع ہو جانی چاہئیں، جلسے کے دنوں میں بھی ہوتی رہیں گی، اللہ تعالیٰ تمام دنیا کو اپنی پہچان کرواتے ہوئے اور ایک دوسرے کی پہچان کرواتے ہوئے امن اور آشتی اور صلح کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا کرے۔