خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 366
366 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چہارم دیکھیں ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشکلات میں گھرا ہوا تو کوئی شخص نہیں تھا۔بھی کوئی پریشانی ہے، کبھی دشمنوں کی پریشانی ہے، کبھی جنگ کی پریشانیاں ہیں ، کبھی کسی قسم کی تکلیفیں ہیں اور آپ سے زیادہ تو کسی کو تکلیفیں نہیں آئیں ، سوچا بھی نہیں جا سکتا اور پھر یہ فکر کہ اللہ تعالیٰ نے جو کام سپرد کیا ہے اس کو مکمل کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرنی ہے۔اگر دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمہ وقت پریشانیوں میں گھرا ہوا انسان ہے اور امت کی فکر اس قدر کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور یہ فکر اس لئے ہے کہ ان کی اصلاح کی جو ذمہ واری اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے ، وہ کس طرح پوری ہوگی۔اور جس قدر تقویٰ آپ میں تھا وہ تو کسی اور میں ہو نہیں سکتا اور اس وجہ سے جتنا تقویٰ زیادہ ہو اللہ تعالیٰ کے خوف کا معیار بھی اتنا بڑھ جاتا ہے، وہ بھی اتنا ہی اونچا تھا۔اس امت کے لئے اپنی فکر کا اظہار کرتے ہوئے اتنی پریشانی تھی کہ آپ خود فرماتے ہیں کہ مجھے تو سورۃ ھود نے بوڑھا کر دیا ہے۔کیونکہ اسی سورۃ میں ان ذمہ داریوں کا حکم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اپنی ذمہ داری تو کوئی لے لیتا ہے کہ میں اصلاح کرلوں گا، دوسرے کی ذمہ داری لینا بہت مشکل کام ہے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ تعالیٰ کا حکم تھا) یہ ذمہ واری لی اور اس فکر میں لی اور دعاؤں میں وقت گزارتے ہوئے اس کام کو پھر باحسن سرانجام بھی دیا۔لیکن بہر حال ایک فکر ہمیشہ آپ کو رہی اور پھر اپنے زمانے کے مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ تا قیامت آنے والے مسلمانوں کی فکر بھی آپ کو رہی۔اتنی ذمہ داریوں کے باوجود اور ایسی حالت کے باوجود آپ کے حسن خلق کا معیار کیا تھا کہ ایک صحابی عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کس کو تبسم فرمانے والا نہیں پایا۔کسی کا اتنا ہنستا مسکراتا چہرہ نہیں دیکھا جتنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔تو یہ ہیں معیار ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے۔پھر آپ نے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم کیا گیا وہ خیر سے بھی محروم کیا گیا۔پس نیکیاں کمانے اور خیر سمیٹنے کا یہ موقع ہے جو سال کے بعد ہمیں مل رہا ہے، اس میں ہر احمدی کو اور خاص طور پر کارکنان کو کوشش کرنی چاہئے کیونکہ مہمان نوازی کے ساتھ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی کے ساتھ، مہمان کی سخت بات پر درگزر کرنا اور اپنے آپ کو کنٹرول کرنا بھی حسن خلق ہے، یہ باتیں یقینا آپ کو خیر و برکت سے بھر دیں گی بلکہ بے شمار خیر اور برکتیں اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں دے گا۔مہمانوں کے نازک جذبات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 292 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )