خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 362

362 خطبہ جمعہ 21 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم خدمت کرنے والے ہیں ان میں بچے بھی ہیں ، جیسا کہ میں نے کہا جو ان بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں، بڑی عمر کے لوگ بھی اور تجربہ کار لوگ بھی شامل ہیں اور ہر ایک اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان دنوں میں ایک ہی طرح پر جوش نظر آتا ہے۔نئی جلسہ گاہ پر وقار عمل شروع ہیں۔وہاں بڑے جوش سے کام ہورہے ہیں اور پھر یہ ڈیوٹیاں دینے والے اس انتظار میں ہیں کہ جلد وہ دن آئیں جب جلسہ شروع ہو اور ہم اپنی ڈیوٹیاں شروع کریں کیونکہ بعض ڈیوٹیاں جلسے کے ساتھ ہی شروع ہوتی ہیں۔اور اس طرح پھر خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بنیں۔گو بعض قسم کی ڈیوٹیاں جیسا کہ میں نے کہا شروع ہو چکی ہیں۔جلسہ گاہ کی تیاری کے لئے پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور کچھ انشاء اللہ تعالیٰ پرسوں جب معائنہ ہو گا تو اس کے بعد سے کافی حد تک شروع ہو جائیں گی اور مکمل طور پر 100 فیصد ڈیوٹیاں تو جلسہ کے دن سے ہی شروع ہوتی ہیں۔اس خطبے میں جو جلسے سے ایک جمعہ پہلے کا خطبہ ہے عموماً برطانیہ کے رہنے والوں ، خاص طور پر ان کارکنان کو جو ڈیوٹیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، ان کو ان کی ڈیوٹیوں کے بارے میں یاد دہانی کروائی جاتی ہے کہ آپ نے اپنے فرائض کس طرح ادا کرنے ہیں، کس طرح مہمان نوازی کرنی ہے، کس طرح ان لوگوں کی خدمت کرنی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نیک مقصد کے لئے جمع ہورہے ہیں جو ان کو روحانی اور اخلاقی ترقی کی طرف لے جانے والا مقصد ہے۔گو کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ تمام کارکنان جن کو کسی بھی ڈیوٹی کے لئے مقرر کیا گیا ہے، بڑے پر جوش ہیں اور ان میں سے بہت سارے خط لکھ کر دعا کے لئے بھی کہتے ہیں اور اگر ملاقات ہو تو زبانی بھی دعا کے لئے کہتے ہیں کہ دعا کریں کہ ہمارے سپر د جو کام ہوا ہے ہم احسن رنگ میں اسے سرانجام دے سکیں اور کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو مہمانوں کے لئے تکلیف کا باعث ہو یا جلسے کے انتظام میں خرابی کا باعث ہو یا انتظامیہ کے لئے پریشانی کا موجب بنے یا مجھے لکھتے ہیں کہ آپ کے لئے کسی قسم کی تکلیف کا باعث ہو۔ظاہر ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے مہمانوں کی مہمان نوازی میں کوئی بھی خلل یا کوئی بھی خرابی یا ان کے کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلا ہونے سے مجھے سب سے زیادہ تکلیف کا احساس ہو گا اور ہونا چاہئے کیونکہ U۔K کے جلسے کا تصور خود بخود غیر محسوس طور پر مرکزی جلسے کا ہو گیا ہے۔کیونکہ پاکستان سے ہجرت کے بعد یہی ایک جلسہ ہے جس میں باقاعدگی سے خلیفہ وقت کی شمولیت ہوتی ہے اور جب لوگ اس سوچ اور اس نظریہ کے ساتھ دور دراز ملکوں سے اس جلسے میں شمولیت کے لئے آتے ہیں کہ غیر اعلانیہ طور پر ہی سہی لیکن ہے یہ مرکزی جلسہ، کیونکہ خلیفہ وقت اس میں موجود ہوگا اور خلیفہ وقت کی اس