خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 359
خطبات مسرور جلد چهارم 359 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 دیا۔اور میں نے بہت کوشش کی ہے روکنے کی لیکن نہیں رکی۔یہ دیکھئے اس کو روکنے کے لئے باگیں کھینچے کھینچتے میرے ہاتھ بھی سرخ ہو گئے ہیں۔لیکن آپ کے پاس پہنچ کر خود بخودبھہر گئی ہے۔آپ اس پر سوار ہو جائیں۔چنانچہ اس گھوڑی نے ملک صاحب کو بڑے آرام سے اگلے گاؤں کوٹ چٹھہ پہنچا دیا جہاں جانا تھا۔تو کہتے ہیں کہ عین وقت پر غیب سے نصرت الہی کے پہنچنے کی وجہ سے ملک صاحب یہ سمجھتے تھے کہ وفد چونکہ حضرت مسیح موعود کے سلسلہ کا ایک کام کرنے کو گیا تھا اور ملک صاحب پیدل چلنے کے عادی نہ تھے بالخصوص موسم گرما میں، اس لئے خدا تعالیٰ نے غیب سے یہ انتظام وسہولت پہنچا دی۔گھوڑے کے دل میں ڈال دیا کہ تم وہیں جا کر رکو۔(اصحاب احمد جلد اوّل صفحہ 154) حضرت مسیح موعود دعا کا ذکر کرتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ : ”اے میرے خدا! مجھے اکیلا مت چھوڑ جیسا کہ اب میں اکیلا ہوں اور تجھ سے بہتر کون وارث ہے۔یعنی اگر چہ میں اس وقت اولا د بھی رکھتا ہوں اور والد بھی اور بھائی بھی بہت دنوں کی بات ہے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں۔لیکن روحانی طور پر ابھی میں اکیلا ہی ہوں۔اور تجھ سے ایسے لوگ چاہتا ہوں جو روحانی طور پر میرے وارث ہوں۔فرماتے ہیں یہ دعا اس آئندہ امر کے لئے پیشگوئی تھی کہ خدا تعالیٰ روحانی تعلق والوں کی ایک جماعت میرے ساتھ کر دے گا جو میرے ہاتھ پر تو بہ کریں گئے۔فرماتے ہیں ” میرے لئے یہ عمل کافی ہے کہ ہزار ہا آدمیوں نے میرے ہاتھ پر اپنے طرح طرح کے گنا ہوں سے تو بہ کی ہے اور ہزار ہا لوگوں میں بعد بیعت میں نے ایسی تبدیلی پائی ہے کہ جب تک خدا کا ہاتھ کسی کو صاف نہ کرے۔ہرگز ایسا صاف نہیں ہو سکتا۔اور میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرے ہزار ہا صادق اور وفا دار مرید بیعت کے بعد ایسی پاک تبدیلی حاصل کر چکے ہیں کہ ایک ایک فرد ان میں بجائے ایک ایک نشان کے ہے۔فرمایا غرض خدا کی شہادت سے ثابت ہے کہ پہلے میں اکیلا تھا اور میرے ساتھ کوئی جماعت نہ تھی۔اور اب کوئی مخالف اس بات کو چھپا نہیں سکتا کہ اب ہزار ہا لوگ میرے ساتھ ہیں۔پس خدا کی پیشگوئیاں اس قسم کی ہوتی ہیں جن کے ساتھ نصرت اور تائید الہی ہوتی ہے“۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 249) ایسے لوگ جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لئے نیکیوں پر قائم ہو اور اللہ اور رسول کے دامن کو پکڑ لو۔اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں سے ہی ایسے لوگ دکھاتا ہے ( جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے ) جن کی قبولیت دعا اور اللہ تعالیٰ