خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 358 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 358

358 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چہارم ہاتھ میں توڑ دی جس سے اس کا ہاتھ زخمی ہو گیا۔پھر راستے میں اس کا ر کا جس پر وہ آ رہا تھا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور اس کی گاڑی ایک گہرے کھڑ میں جاگری۔اس کی بیوی نے بھی اس سے کہا کہ تم نے جواحمدیوں کے امیر مولوی مبشر کے ساتھ سلوک کیا ہے اس کی وجہ سے یہ سب تمہارے ساتھ ہورہا ہے۔ان سے معافی مانگو۔کہتے ہیں کہ دراصل یہ شرارت ایک متعصب اسٹنٹ ڈپٹی کمشنر کی تھی جو کیتھولک تھا۔چنانچہ یہ تلاشی وغیرہ کا سلسلہ ختم ہوا تو میں نے چیف کمشنر کے پاس پہنچ کر شکایت کی کہ آپ کی پولیس نے اس طرح ہمارے خالص مذہبی اور تبلیغی مشن سے زیادتی کی ہے۔اس پر اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کس پر شک ہے۔میں نے کہا میرا خیال ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر سالٹ پانڈ نے سب کچھ کروایا ہے۔چنانچہ کچھ عرصے بعد اس کی تبدیلی کر کے اس کو ڈپٹی کمشنر بنا دیا گیا۔کہتے ہیں اس پر میں نے تہجد میں دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ میرے مولیٰ ! وہ شخص جس نے تیرے دین کی توہین کی یا کرائی اسے یہ ترقی کیسی ملی۔یعنی اسے تو عبرتناک سزاملنی چاہئے تھی۔کہتے ہیں میری دعا کے چند دن بعد اس متعصب دشمن اسلام پر وہاں کے ایک بخار بلیک واٹر فیور (Black Water Fever) یعنی کالے خونی بخار کا حملہ ہوا اور اس سے فوت ہو گیا۔روح پرور یادیں از مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری صفحہ 82 تا 80 اب دیکھیں جانوروں کے دل میں بھی اللہ تعالیٰ کس طرح ڈالتا ہے۔ہمارا ایک وفد ڈیرہ غازیخان میں کسی جگہ گیا اور ان دنوں وہاں گرمی بڑی تھی۔ٹانگے پر جا رہے تھے۔تو گھوڑا گرمی سے تھک کر گر گیا۔بڑی کوشش کی انہوں نے کہ اُسے اٹھا ئیں لیکن گھوڑ انہیں اٹھا۔ملک مولا بخش صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے گھوڑا نہیں اٹھتا تو پیدل روانہ ہو گئے۔اگلے گاؤں جانا تھا۔باقی لوگ ٹانگے کے پاس کھڑے رہے۔اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص سفید گھوڑے پر سر پٹ گھوڑا دوڑاتا ہوا آرہا ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ شخص اگر واقف ہو اور گھوڑا تانگے کو لگ سکے تو ہم اسے جوت لیں گے اور اس کا سوار تانگے پر سوار ہو جائے گا۔لیکن جب سوار نے مقامی دوستوں کو سلام نہ کیا تو یہ سمجھے کہ یہ کوئی اجنبی شخص ہے۔سوار اسی طرح گھوڑا سرپٹ دوڑائے چلا جارہا تھا۔جب وہ گھوڑا ملک صاحب کے پاس پہنچا تو خود بخود رک گیا اور وہ سوار اترا اور اس نے ملک صاحب سے کہا کہ آپ اس گھوڑے پر بیٹھ جائیں۔یہ شخص کوئی قادر بخش تھا اور آپ کا واقف تھا۔ملک صاحب نے عذر کیا کہ آپ چلیں میں پیدل آ جاتا ہوں۔لیکن اس نے کہا۔کوئی بات نہ کریں۔اس پر بیٹھ جائیں۔یہ ایک عجیب واقعہ ہے۔چنانچہ دریافت کرنے پر اس نے کہا کہ چند سال سے میں روزانہ اس گھوڑی پر بستی رنداں سے ( ڈیرہ غازیخان میں ایک گاؤں ہے ) اپنے حلقہ میں جاتا ہوں۔اور کبھی اس نے کان تک نہیں بلایا اور میرے اشارے پر چلتی ہے مگر آج نہ معلوم کیا ہوا کہ جب گاؤں سے میں نکلا ہوں تو یہ واپس مڑ گئی اور بھاگنا شروع کر