خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 354

خطبات مسرور جلد چهارم حضرت مسیح موعود نے بھی لکھا ہے : 354 کبھی وہ ہو کے خاک دشمنوں کے سر پر پڑتی ہے خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 (براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 106) یہ حال ان کا ہور ہا تھا، یہاں تک کہ ان کی شکلیں بھی دکھائی نہ دیتی تھیں۔کہتے ہیں کہ بارہ بجے دو پہر تک جو غیر احمدیوں کا پروگرام تھا وہ سب آندھی اور طوفان باد کی نظر ہو گیا۔اور ہمارا جلسہ بارہ بجے کے بعد شروع ہونا تھا۔کہتے ہیں سب سے پہلے میری تقر ریتھی آندھی کا سلسلہ ابھی تک چل رہا تھا کہ مجھے سٹیج پر بلایا گیا۔میں نے سب حاضرین کی خدمت میں عرض کیا کہ سب احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے جلسے کو ہر طرح سے کامیاب کرے۔چنانچہ میں نے سب حاضرین سمیت ہاتھ اٹھائے اور خدا تعالیٰ کے حضور عرض کی اے مولیٰ کریم ! تو نے خود قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ مخلص و مومن اور فاسق و کافر برابر نہیں ہو سکتے اور تجھے معلوم ہو کہ غیر احمد یوں کے جلسے کی غرض تیرے پاک مسیح کی ہجو کرنا اور تکذیب کے سوا کچھ نہیں تھا اور ہماری غرض تیرے پاک مسیح کی تصدیق اور توثیق کے سوا اور کچھ نہیں۔اگر دونوں مقاصد میں تیرے نزدیک کوئی فرق ہے تو اس آندھی کے ذریعے سے اس فرق کو ظاہر فرما اور اس آندھی کے مسلط کرنے والے ملائکہ کو حکم دے کہ اس کو تھام لیں تا کہ ہم جلسے کی کارروائی کو عمل میں لا کر اعلائے کلمتہ اللہ کرسکیں۔میں ابھی دعا کر ہی رہا تھا اور سب احباب بھی میری معیت میں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے کہ یکدم آندھی رک گئی اور پھر ایسی رکی کہ پہلے ٹھنڈی ہوا چلنی شروع ہوئی اور پھر چند منٹ میں بالکل ختم ہو گئی۔تو وہی ہوا کہ وہ دشمنوں کے سر پر پڑی اور ہمارا جلسہ جو شروع ہوا تو بند ہوگئی۔کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت کے یہ سب کرشمے اس کے پاک مسیح اور نائب الرسول اور اس کے عظیم الشان خلفاء کی خاطر اور ان کی برکت سے ظاہر ہوئے۔الحمد للہ علی ذالک۔ر حیات قدسی حصہ سوم صفحہ 26-27) پھر مولانا غلام رسول صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہدایت پر چار افراد ہندوستان کے دورے کے لئے گئے۔کہتے ہیں ہم پہلے کلکتہ گئے پھر ٹا ٹانگر جمشید پور گئے۔اس میں مولوی محمد سلیم صاحب ، مہاشہ محمد عمر صاحب اور گیانی عباداللہ صاحب شامل تھے۔کہتے ہیں کیرنگ میں بڑی جماعت ہے جو مولوی عبد الرحیم صاحب پنجابی کے ذریعہ قائم ہوئی تھی ، کیرنگ کے ارد گرد کے دیہات میں بھی ہم تبلیغ کرنے کی غرض سے جاتے رہے۔ایک دفعہ ایک گاؤں کی طرف جا ر ہے تھے کہ راستے میں ایک سانپ عجیب نمونہ کا دیکھا۔ہم بلندی کی طرف جارہے تھے اور وہ بہت بڑا سانپ