خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 350

خطبات مسرور جلد چہارم 350 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 مقام کی جگہ کا انتظام کیا جا رہا تھا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو عشاء کے وقت سارے گھانا میں شدید زلزلہ آیا۔اور زلزلے سے دوسرے روز جب میں ہیڈ کوارٹر سالٹ پانڈ واپس جا رہا تھا تو جہاں سے میں گزرتا لوگ مجھے دیکھ کر تعجب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اس شخص نے کہا تھا زلزلہ ضرور آئے گا جو آ گیا ہے اور مشرکین اور عیسائی بھی اپنے دو تارے بجا بجا کر اعلان کرنے لگے کہ مسلمانوں کا مہدی آ گیا ہے کیونکہ زلزلہ آ گیا ہے۔تو کہتے ہیں پھر اس زلزلے کے بعد میں نے عربی اور انگریزی میں ٹریکٹ شائع کر کے امام مہدی کے آنے کی بشارتیں دیں اور اس وجہ سے پھر اس قریب کے علاقے میں ہی 180 افراد نے بیعت کر لی۔روح پرور یا دیں۔مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب صفحه 77-79 شیخ زین العابدین صاحب اور حافظ حامد علی صاحب اپنے مشرقی افریقہ کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ہماری تائید و نصرت فرمائی اس لئے کہ ان کو یہ یقین تھا کہ حضرت صاحب کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں۔ان کا واقعہ یہ ہے۔کہتے ہیں کہ ہم جہاز پر روانہ ہوئے اور اس میں ایک ہزار افراد سفر کر رہے تھے۔ابھی افریقہ پہنچنے میں چند روز باقی تھے کہ کپتان نے آدھی رات کو اعلان کر دیا کہ جہاز طوفان میں گھر گیا ہے اور خراب ہو گیا ہے اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔لوگ دعا کریں۔شیخ صاحب بیان کرتے ہیں کہ بھائی حامد علی صاحب نے مجھے جگایا۔میں نے دریافت کیا کہ لوگ کیوں روتے ہیں۔حافظ صاحب نے مجھ سے وعدہ لے کر کہ میں غم نہ کروں بات بتلائی اور کہا کہ دعا کرو۔میں نے کہا کہ جہاز غرق نہیں ہو سکتا اس پر مسیح کے دو حواری بیٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے مامور نے مجھے خوشخبری دی تھی ( یہ حضرت مسیح موعود کے وقت کی بات ہے ) کہ تم دونوں بھائی افریقہ جاؤ وہاں سے صحیح سلامت اور فائدہ حاصل کر کے آؤ گے۔تو بھائی حامد علی نے کہا کہ کیا پتہ حضور کے الفاظ کی تعبیر کچھ اور ہو۔(الفاظ تعبیر طلب ہوں )۔میں نے کہا ہر گز نہیں۔میرا ایمان اور یقین ہے کہ میں نے جو حضور کے منہ سے سنا ہے وہی ہو گا چنانچہ اس وقت دعا میں شامل ہو گئے۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد کپتان نے اعلان کیا کہ اب امن ہو گیا ہے اور جہاز خطرے سے باہر ہو چکا ہے۔قریباً چوتھے روز ہم مشرقی افریقہ پہنچے اور جہاز آٹھ دن وہیں کھڑا رہا۔پھر وہ زنجبار کو روانہ ہوا اور راستہ میں ایک دن کے بعد غرق ہو گیا۔( ان کو چھوڑنے کے بعد )۔کہتے ہیں میرے چچا شہاب الدین صاحب نے بٹالہ میں ایک اخبار میں یہ خبر پڑھی۔سودا سلف سامان لینے گئے تھے۔تو انہوں نے گھر آ کر بھائی فقیر علی کو بتایا۔انہوں نے کہا گھر میں نہیں بتانا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں یہ خبر ضرور پہنچانی ہے۔دونوں قادیان آئے اور حضرت صاحب سے مل کر رونے لگ پڑے۔حضور نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے یہ خبر بیان کی اور کہا کہ وہ دونوں غرق ہو گئے ہوں گے۔فرمایا ہر گز نہیں۔(دیکھیں آپ کو کتنا یقین تھا) وہ زندہ ہیں اور جاؤ اور جا کر دیکھو۔