خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 349 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 349

349 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چہارم پھر ایک واقعہ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مبشر لکھتے ہیں کہ جولائی 1939 ء کا واقعہ ہے کہ گھانا کی ڈ گو بہ قوم کا نو جوان حج بیت اللہ اور دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد مکہ مکرمہ سے واپس آکر گھانا کے ایک گاؤں صراحہ نامی میں قیام پذیر ہو گیا اور غالبا اپنی اہمیت بڑھانے کے لئے اس نے ہمارے خلاف پراپیگینڈہ شروع کر دیا کہ میں مکہ سے آیا ہوں اور امام مہدی کا ظہور ابھی نہیں ہوا۔احمدی غلط بیانی سے کام لیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ان کا پراپیگنڈہ اتنا زور پکڑ گیا کہ اس علاقے کے ایک چیف رئیس محمد نامی جو تھے وہ کہتے ہیں میرے پاس سالٹ پانڈ آئے اور اس شخص کے زہریلے پراپیگنڈے کے بارے میں کہا کہ اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنی چاہئے۔میں نے انہیں کہا کہ میں کچھ ضروری کاموں میں مصروف ہوں۔میرے کسی شاگرد کو لے جائیں۔لیکن جو وہاں کے چیف آئے تھے انہوں نے مولانا صاحب کو یہی زور دیا کہ آپ خود جائیں۔کہتے ہیں چنانچہ میں خود اس گاؤں میں پہنچا۔ارد گرد کی جماعتوں کے احباب بھی وہاں پہنچ گئے۔میں نے اس مخالف نوجوان سے عربی میں گفتگو کرنی چاہی لیکن وہ آمادہ نہ ہوا اور لایعنی عذر کرنے لگا۔اس پر گاؤں والوں نے خواہش ظاہر کی کہ میں علامات مہدی پر تقریر کروں۔چنانچہ میں نے پونے دو گھنٹے اس موضوع پر تقریر کی جس کے بعد سامعین کو اعتراضات اور سوالات کی کھلی دعوت دی گئی۔مگر کسی نے کوئی معقول سوال نہ کیا۔کہتے ہیں اور یوں میں ایک رات گزار کر واپس آ گیا۔لیکن کہتے ہیں کہ گھانا کا ملکی رواج یہ ہے کہ اگر کسی دو پارٹیوں میں مقابلہ ہو جائے تو جو پارٹی جیت جاتی ہے وہ فتح کے نشان کے طور پر سفید لٹھے کی پٹیاں سروں اور ہاتھوں پر باندھ کر اور سفید جھنڈے ہاتھوں میں لے کر شہر میں جلوس نکالتے ہیں اور اپنی فتح کا اعلان کرتے ہیں۔تو دوسری پارٹی نے باوجود اس کے کہ کوئی جواب نہیں دے سکے، یہ جلوس نکالا اور اعلان کیا کہ ہماری فتح ہوئی ہے اور مہدی ابھی نہیں آیا کیونکہ زلزلہ نہیں آیا۔مہدی ظاہر ہوتا تو زلزلہ ضرور آتا۔( گھانا کے اس علاقے میں عمو ما زلزے بہت کم آتے ہیں یا شاید آتے ہی نہ ہوں۔میں نے اپنے آٹھ سالہ قیام میں نہیں دیکھا کہ کبھی زلزلہ آیا ہو )۔بہر حال یہ لکھتے ہیں کہ جب مجھے ان کی اس حرکت کی اطلاع ملی تو میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک ہفتہ بڑے الحاح اور درد سے دعا کی کہ الہی ان مخالفوں کے مطالبہ کے مطابق اور صداقت مہدی علیہ السلام کے اظہار کے لئے زلزلے کا نشان دکھا۔حضرت مسیح موعود کے نشانوں میں سے ایک زلزلے کا نشان بھی تو ہے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ اس دعا کا اتنا اثر تھا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ اب اس ملک میں زلزلے کا نشان ضرور دکھائے گا اور میں نے اس علاقے میں تین مقامات پر جلسے کئے اور ہر جگہ تمام واقعات بیان کر کے اعلان کر دیا کہ اب مہدی علیہ السلام کی صداقت کے اظہار کے لئے زلزلہ ضرور آئے گا اور اُن زلازل کا ذکر بھی کیا جو اس سلسلے میں پہلے آچکے تھے۔چنانچہ ابھی دو ہی مقام پر جلسہ ہوا تھا اور تیسرے