خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 348 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 348

348 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم میں طہارت کر رہا تھا۔اس نے مجھے مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھ لیا اور راستہ میں وہاں کے امام مسجد مولوی کلیم اللہ نے بھی مجھے دیکھا۔تو کہتے ہیں کہ یہ جب دونوں آپس میں ملے تو انہوں نے میرے جنون احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے مسجد کے برآمدے میں ان اشعار کو پڑھا۔اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ اب ہماری مسجد اس مرزائی نے پلید کر دی ہے یہ تجویز کیا کہ سات مضبوط جوانوں کو میرے پیچھے دوڑایا جائے جو میری مشکیں باندھ کر، پکڑ کر ان کے پاس لے آئیں۔کہتے ہیں پھر ان کا منصوبہ یہ تھا کہ میرے ہاتھوں ہی میرے لکھے ہوئے اشعار کو مٹوا کر مجھے قتل کر دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سات جوانوں کو میرے پیچھے دوڑایا مگر اس زمانے میں میں بہت تیز چلنے والا تھا اس لئے میں ان جوانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے گاؤں آ گیا اور وہ خائب و خاسر ناکام لوٹ گئے۔تو دوسرے دن اسی گاؤں کا ایک باشندہ جو والد صاحب کا مرید تھا اور ان لوگوں کے بدار ا دوں سے واقف تھا صبح ہوتے ہی ان کی (یعنی ان کے والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔کہتے ہیں والد صاحب نے یہ سننے کے بعد مجھ سے کہا کہ جب ان لوگوں کے تمہارے متعلق ایسے ارادے ہیں تو احتیاط کرنی چاہئے۔کہتے ہیں کہ جب میں نے اپنے والد صاحب سے یہ سنا تو وضو کر کے نماز شروع کر دی اور اپنے مولیٰ کریم سے عرض کیا کہ یہ لوگ مجھے تیرے پیارے مسیح کی تبلیغ سے روک دیں گے؟ اور کیا میں اس تبلیغ کرنے سے محروم رہوں گا ؟۔یہ دعا میں بڑے اضطراب اور قلق سے مانگ رہا تھا کہ مجھے جائے نماز پر ہی غنودگی سی محسوس ہوئی اور میں سو گیا اور سونے کے ساتھ ہی میرا غریب نواز خدا مجھ سے ہمکلام ہوا اور نہایت رافت اور رحمت سے فرمانے لگا وہ کون ہے جو تجھے تبلیغ سے روکنے والا ہے۔اللہ بخش نمبر دار کو میں آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈال دوں گا۔تو کہتے ہیں صبح ہوتے ہی میں ناشتہ کر کے اس گاؤں میں پہنچا۔( گڑھو نام تھا یا جو بھی ) اور جاتے ہی اللہ بخش نمبر دار کا پتہ پوچھا۔لوگوں نے کہا کہ کیا بات ہے؟ میں نے کہا اس کے لئے ایک الہی پیغام لایا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ اللہ بخش آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈالا جائے گا اور کوئی نہیں جو اس خدائی تقدیر کو ٹال سکے۔تو کہنے لگے کہ وہ تو موضع لالہ چک جو گجرات سے مشرق کی طرف کچھ فاصلے پر ہے وہاں گیا ہوا ہے۔کہتے ہیں میں نے پھر کہا کہ تم لوگ گواہ رہنا کہ وہ آج سے گیارہویں دن قبر میں ڈالا جائے گا۔کوئی نہیں جو اس تقدیر کو ٹال سکے۔یہ پیغام سنتے ہی کہتے ہیں کہ وہاں جو لوگ بیٹھے تھے ان پر سناٹا چھا گیا اور پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہی اللہ بخش بیمار ہوا ، خونی اسہال ہوئے اور سینے میں دردو غیرہ ہوئی۔وہاں لالہ چک میں بیمار ہو گیا اور چند دن میں یہ بیماری اتنی بڑھی کہ اس کے رشتہ دار اس کو گجرات ہسپتال لے کر گئے اور وہاں جا کے وہ ٹھیک گیارہویں دن اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا اور اپنے موضع گڑھو کا قبرستان بھی اسے نصیب نہ ہوا۔حیات قدسی۔حصہ اول صفحہ 23-24