خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 347
خطبات مسرور جلد چهارم 347 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 ہے۔زمانے میں بھیجا ہے وہ نصرت نہ مخالفین کی خواہشوں سے ختم ہونی ہے، نہ ان کی کوششوں سے ختم ہونی ہے، انشاء اللہ۔اور نہ کسی وقت یا کسی خاص فرد کے ساتھ یہ نصرت وابستہ ہے۔یہ نصرت کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیاری جماعت سے وابستہ ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس میں روک نہیں بن سکتی۔اللہ تعالیٰ کی نصرت کے وعدے ہر قدم پر ، ہر روز ہم دیکھتے ہیں۔اس طرح جماعتی لحاظ سے اللہ تعالیٰ سارا سال اور ہر روز جو نصرت ہمیں دکھاتا ہے اس کا تذکرہ تو انشاء اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ پر ہو گا۔اس کی تفصیل تو اس وقت میں یہاں بیان نہیں کر رہا۔اس وقت میں نے تمہید آ یہ بتایا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ مخالفوں کی خوشیوں کو پامال کرتا رہا۔جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ انفرادی طور پر بھی اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی مدد کے نظارے دکھاتا۔جس کا اس نے ہم لوگوں سے وعدہ کیا ہوا ہے جو اس کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والے ہیں۔اور جن کو اپنے نمونے قائم کرنے کی اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے اور حکم دیا ہے کہ نمازوں کو قائم کرو، مالی قربانیوں میں آگے بڑھو اور اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے پکڑ لو اور اللہ اور رسول اور نظام خلافت کی مکمل اطاعت کرو۔تو پھر دیکھو گے کہ تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہر قدم پر اپنی تائید و نصرت کے نظارے دکھائے گا۔اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور پھر آپ کے خلفائے راشدین کے زمانے میں ہمیں تاریخ یہ نمونے دکھاتی ہے، بتاتی ہے۔مسیح محمدی کے ماننے والوں میں بھی انتہائی کڑے وقتوں میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے نظارے ہم دیکھتے ہیں۔اس وقت میں ایسے ہی بزرگوں کے چند واقعات پیش کرنے لگا ہوں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے مسیح و مہدی کے ماننے والوں اور میدان عمل میں کام کرنے والوں کی مختلف مواقع پر مددفرماتا رہا ہے اور آج بھی فرما رہا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے پیارے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ مومنوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے ان کو یہ نظارے دکھاتا ہے۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ایک جگہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ موضع گڑھو جو ہمارے گاؤں سے تقریباً ڈیڑھ کوس کے فاصلے پر واقع ہے گیا۔کیونکہ اس گاؤں کے اکثر لوگ ہمارے خاندان کے حلقہ ارادت میں داخل تھے۔یعنی ان کے مرید تھے۔اس لئے میں نے یہاں کے بعض آدمیوں کو احمدیت کی تبلیغ کی اور واپسی پر اس موضع کی ایک مسجد ( اس گاؤں کی ایک مسجد ) کے برآمدے میں اپنی ایک پنجابی نظم کے کچھ اشعار جو سید نا حضرت مسیح موعود کی آمد سے متعلق تھے لکھ دیئے۔اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت گاؤں کے نمبر دار چوہدری اللہ بخش تھے وہ کہیں مسجد کے غسل خانے