خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 346 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 346

خطبات مسرور جلد چہارم 346 خطبہ جمعہ 14 جولائی 2006 سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلاوے“۔(رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305 ) ہم نے دیکھا کہ یہ بات کس طرح سچ ثابت ہوئی اور حضرت خلیفہ اسیح الاول کو اللہ تعالیٰ نے خلافت کی ردا پہنا کر مخالفین کی خوشیوں کو پامال کر دیا اور مومنین پھر ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو گئے۔پھر خلافت ثانیہ کے وقت میں ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی کس طرح مدد و نصرت فرمائی۔اندرونی اور بیرونی مخالفین کی کوششوں اور خواہشوں کو پامال کر کے احمدیت کی کشتی کو اس بالکل نوجوان لیکن اولوالعزم پسر موعود کی قیادت میں آگے بڑھاتا چلا گیا اور جماعت کو ترقیات پر ترقیات دیتا چلا گیا۔اور دنیا کے بہت سے ممالک میں اللہ تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت کی وجہ سے احمدیت کا جھنڈ ا خلافت ثانیہ میں لہرایا گیا۔پھر خلافت ثالثہ میں انتہائی سخت دور آیا اور دشمن نے جماعت کو، افراد جماعت کو مایوس اور مفلوج کرنے کی کوشش کی اور اپنے زعم میں جماعت کے ہاتھ کاٹ دیئے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت وفضل سے جماعت کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔یہ قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا بلکہ ایک دنیا نے دیکھا کہ مخالفین کے نہ صرف ہاتھ کئے بلکہ گردنیں بھی اڑا دی گئیں اور یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہیں۔پھر خلافت رابعہ کے دور میں مخالفین نے خیال کیا کہ اب ہم نے ایسا داؤ استعمال کیا ہے یا مخالفین کے ایک سرغنے نے خیال کیا کہ اب میں نے ایسا داؤ استعمال کیا ہے کہ اب جماعت احمد یہ ہر طرف سے بندھ گئی ہے، اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے اور یہ اپنی موت آپ مر جائے گی۔لیکن جیسا کہ بے شمار الہامات سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے وعدہ فرمایا تھا کہ میں تیری مددکروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس خلیفہ راشد کی بھی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور دشمن اپنی تمام تر تدبیروں اور مکروں کے باوجود نظام خلافت کو مفلوج اور ختم کرنے میں ناکام و نامراد ہوا۔بلکہ اپنے وعدے کے مطابق کہ میں تیری تبلیغ کوزمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“۔( تذکر صفحہ 260 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ نے ایسے راستے کھلوائے اور اس طرح مدد فرمائی کہ دشمن بیچارہ دانت پیستارہ گیا۔اور ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل تبلیغ کا ایک بہت بڑا ذریعہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے ہے۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد مخالفین اس امید پر تھے کہ شاید اب یہ انتہا ہو چکی ہے اس لئے شاید اب جماعت کا زوال شروع ہو جائے لیکن بے وقوفوں کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے منصوبے کیا ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جس مسیح الزمان کو اپنی تائید و نصرت کے وعدوں کے ساتھ اس