خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 344
344 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم گئی۔تو بہر حال حضرت اماں جان اس تلاشی کا نقشہ یوں بیان کرتی ہیں کہ میں بیٹھی ہوئی تھی تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے نیچے کی طرف اشارہ کر کے کہا ( چھوٹے سے بچے تھے ) پنجابی بولا کرتے تھے کہ اماں او پائی یعنی سپاہی کو پائی کہہ رہے تھے۔بہر حال ڈیوڑھی میں سے جب جھانک کے دیکھا تو سپاہی کھڑے تھے۔پھر کہتے ہیں کہ اتنی دیر میں مسجد کا دروازہ کھٹکا اور پتہ لگا کہ سپاہی آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہا ٹھہرو میں آتا ہوں۔پھر آپ نے بڑے اطمینان سے جو اپنا بیگ تھا وہ بند کیا اور مسجد کی طرف گئے وہاں مسجد میں جو انگریز کپتان تھا اس کے ساتھ دوسرے پولیس کے آدمی بھی تھے۔تو انہوں نے کہا گھر کی تلاشی لینے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ساری تلاشی دلوائی۔اور حضرت اماں جان کہتی ہیں کہ اس تلاشی کے دوران میں ایک خط نکلا جس میں لیکھرام کے قتل پر کسی احمدی نے حضرت مسیح موعود کو مبارکباد لکھی تھی۔دشمنوں نے جھٹ کپتان صاحب کے سامنے وہ خط رکھ دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اس ایک خط کو کیا دیکھتے ہو اس طرح کے تو بہت سارے خط میرے پاس مبارکبادوں کے آئے ہیں۔اور لا کے ایک بڑا سا تھیلا سامنے رکھ دیا کہ یہ ہیں جو مبارکباد کے خط آئے ہوئے ہیں۔تو بہر حال کپتان صاحب نے کہا۔نہیں نہیں ہم کچھ نہیں دیکھتے۔پھر نیچے کمرے میں بیسمنٹ میں جانے لگے، اس کا دروازہ چھوٹا تھا۔اماں جان کہتی ہیں وہاں بچارے کپتان صاحب کا سر ٹکرا گیا اور بڑی سخت چوٹ لگی اور بیٹھ گئے تو آخر پر تلاشی لینے والوں کا ظاہراً یہ انجام ہوا۔بہر حال ان کو کچھ نہیں ملا اور ناکام و نامراد واپس چلے گئے۔تاریخ احمدیت جلد1 صفحہ 599 تا 01 جدید ایڈیشن مطبوعه ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جیسا کہ پہلے میں نے بتایا تھا کہ لیکھرام کے مارے جانے کے وقت میرے گھر کی تلاشی لی گئی۔اور دشمنوں نے ناخنوں تک زور لگا دیا تا میں قاتل قرار دیا جاؤں۔مگر وہ تمام مقدمات میں نامرادر ہے۔تو ہمیشہ کی طرح اس مقدمہ میں بھی اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا باقی مقدموں میں بھی دشمن ہمیشہ ناکام و نا مراد ہی رہے۔اور اللہ تعالیٰ کے اس شیر پر کبھی کوئی ہاتھ نہ ڈال سکا۔اس طرح اور سینکڑوں نشانات ہیں جو اللہ تعالی نے آپ کی تائید و نصرت میں دکھائے جو یقیناً ہمارے ایمان میں تازگی اور ترقی کا باعث بنتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اور ہر آن اپنے ایمان میں بڑھاتا چلا جائے۔اور احمدیت پر ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر ہمارا یقین بڑھتا چلا جائے۔