خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 343
خطبات مسرور جلد چهارم 343 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 کہا۔جب پولیس نے تلاشی لینی تھی تو افسروں کے آنے سے چند منٹ پیشتر آپ سراج منیر کی ایک کاپی پڑھ رہے تھے۔جس میں یہ مضمون تھا کہ لیکھرام کے قتل سے آپ پر ویساہی ابتلا آیا جیسے مسیح علیہ السلام کے دشمنوں نے خود بھی ایذا رسانی کی کوششیں کی تھیں اور گورنمنٹ کے ذریعہ سے بھی تکلیف دی تھی۔مگر میرے معاملے میں تو اب تک صرف ایک پہلو ہے۔کیا اچھا ہوتا کہ گورنمنٹ کی دست اندازی کا پہلو بھی اس کے ساتھ شامل ہو جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک سپرنٹنڈنٹ پولیس گورداسپور اور انسپکٹر میاں محمد بخش ( جس نے پہلے بھی کئی کوششیں کی تھیں) اور کچھ ہیڈ کانسٹیبلز اور پولیس کی بھاری نفری نے آکر حضرت مسیح موعود کے گھر کو گھیر لیا۔اس سے پہلے حضرت میر ناصر نواب صاحب نے پولیس کے آنے کی خبر کہیں سے سن لی تھی۔وہ سخت گھبرائے ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں جا کر بڑی پریشانی کے عالم میں عرض کی کہ پولیس گرفتاری کے لئے آ رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسکرائے اور فرمایا میر صاحب ! دنیا دار لوگ خوشیوں میں سونے چاندی کے کنگن پہنا کرتے ہیں ، ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لئے۔پھر ذرا تامل کے بعد فرمایا مگر ایسا نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کی اپنی گورنمنٹ کے مصالح ہوتے ہیں ( اپنے طریقے ہیں اللہ تعالیٰ کی گورنمنٹ کے۔) اس وقت حضرت پیر منظور محمد صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ حضرت اقدس پر پولیس کی اطلاع کا ہلکا سا بھی اثر نہیں تھا۔اور بدستور اپنی کا پی پڑھتے جارہے تھے۔لیکن جب پولیس نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ نے کام بند کر دیا اور فوراً جا کر دروازہ کھول دیا۔پھر وہ جو سپر نٹنڈنٹ پولیس تھے۔انہوں نے ٹوپی اتار کر کہا کہ مجھے حکم آگیا ہے کہ میں قتل کے مقدمے میں آپ کے گھر کی تلاشی لوں۔تلاشی کا نام سن کر آپ کو اس قدر خوشی ہوئی جتنی اس ملزم کو ہوسکتی ہے جسے کہا جائے کہ تیرے گھر کی تلاشی نہیں ہوگی۔چنانچہ حضور نے فرمایا کہ آپ اطمینان سے تلاشی لیں۔اور میں مدد دینے میں آپ کے ساتھ ہوں۔اس کے بعد آپ اسے دوسرے افسروں سمیت مکان میں لے گئے۔اور پہلے مردانہ اور پھر زنانہ مکان میں تمام بستے ( بیگ) وغیرہ ان کو دکھائے۔تو ایک بیگ جب کھولا تو اس میں وہ کاغذات برآمد ہوئے جو پنڈت لیکھرام نے نشان نمائی کے لئے اپنے قلم سے حضور کے نام لکھے تھے۔بہر حال بڑی دیر تک تلاشی جاری رہی۔بعض تالے پرانے تھے ، چابیاں گم گئی تھیں تو ٹرنک تو ڑ کر بھی تلاشی لی گئی لیکن ان کو کچھ نہیں ملا اور تلاشی کے دوران آپ کے چہرہ مبارک پر کسی قسم کی فکر و تشویش نہیں تھی۔قعطاً کوئی آثار ہی نہیں تھے۔بلکہ آپ بڑے مطمئن اور خوش تھے۔حضور کے گھر کی تلاشی کے بعد جو مہمان خانہ تھا، آگے پر لیس تھا ، حضرت خلیفہ اول کا گھر تھا اس کی بھی تلاشی لی گئی۔الماریاں وغیرہ دیکھی گئیں یہاں تک کہ پتھر کی سل جو گندم پینے کے لئے تھی وہ بھی کھول کھال کے دیکھی