خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 342 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 342

خطبات مسرور جلد چهارم 342 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 نہ ہوسکی اور خدا تعالیٰ کی اس پیشگوئی کے مطابق جو میری کتاب مواہب الرحمن میں پہلے سے چھپ کر شائع ہو چکی تھی میں بری کیا گیا۔اور میرا جرمانہ واپس کیا گیا اور حاکم مجوز کو منسوخی حکم کے ساتھ یہ تنبیہ ہوئی کہ یہ حکم اس نے بے جا دیا۔یعنی آتما رام کو تنبیہ بھی ہوئی۔مگر کرم دین کو جیسا کہ مواہب الرحمن میں شائع کر چکا تھا سزا مل گئی اور عدالت کی رائے سے اُس کے کذاب ہونے پر مہر لگ گئی۔جو کہتا تھا مجھے کذاب کہا ہے۔اور ہمارے تمام مخالف مولوی اپنے مقاصد میں نامرادر ہے۔افسوس کہ میرے مخالفوں کو باوجود اس قدرمتواتر نامرادیوں کے میری نسبت کسی وقت محسوس نہ ہوا کہ اس شخص کے ساتھ در پردہ ایک ہاتھ ہے جو ان کے ہر ایک حملہ سے اس کو بچاتا ہے۔اگر بد قسمتی نہ ہوتی تو ان کے لئے یہ ایک معجزہ تھا کہ ان کے ہر ایک حملہ کے وقت خدا نے مجھ کو ان کے شر سے بچایا۔اور نہ صرف بچایا بلکہ پہلے اس سے خبر بھی دے دی کہ وہ بچائے گا۔اور ہر ایک مرتبہ اور ہر ایک مقدمہ میں خدا تعالیٰ مجھے خبر دیتا رہا کہ میں تجھے بچاؤں گا۔چنانچہ وہ اپنے وعدہ کے موافق مجھے محفوظ رکھتا رہا۔یہ ہیں خدا کے اقتداری نشان کہ ایک طرف تمام دنیا ہمارے ہلاک کرنے کے لئے جمع ہے اور ایک طرف وہ قادر خدا ہے کہ ان کے ہر ایک حملہ سے مجھے بچاتا ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 124-125 ) پھر پانچواں واقعہ جو آپ نے بتایا وہ لیکھرام کا واقعہ ہے۔اس کے متعلق پیشگوئی تھی اس کے مطابق وہ کیفر کردار تک پہنچا۔جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی انتہا کی ہوئی تھی۔آخر اللہ تعالیٰ کی پکڑنے ، اپنے پیارے نبی کی غیرت نے اس کو پکڑا اور اس کی تمام تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتائی کہ میں اس کو پکڑوں گا اور کس طرح اس کا انجام ہوگا۔آپ نے اس بارے میں پیشگوئی فرمائی اور باوجود تمام تر حفاظتی تدابیر کے کوئی اس کو بچا نہ سکا۔یہ بھی ایک لمبی کہانی ہے۔بہر حال اس کے قتل کے بعد اس پیشگوئی کی بنا پر جو حضرت مسیح موعود نے اس کے انجام کی کی تھی حکومت کے کارندوں نے بھی کوششیں کیں اور لوگوں نے بڑا شور مچایا اور آپ پر الزام لگایا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آپ کی ہر لحاظ سے یہاں بھی بریت فرمائی۔آپ کے گھر کی تلاشی بھی لی گئی لیکن پولیس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔اور اس قتل کے بعد تو آریوں کے جذبات بڑے سخت مشتعل ہو گئے تھے۔ہر طرف آگ لگ گئی تھی۔پولیس بڑی کوشش کر رہی تھی کہ مجرم کو پکڑے۔اس شخص کا جس نے قتل کیا تھا حلیہ بھی اشتہار میں دیا گیا لیکن ایک آدمی جو اس حلیہ کا پکڑا گیا تو لیکھرام کی بیوی نے کہا نہیں ، یہ وہ نہیں۔یہ کوئی کشمیری تھا۔ایک احمدی کو بھی پکڑا گیا۔بعد میں وہ بھی رہا کر دیئے گئے۔پکڑ دھکڑ کے علاوہ تلاشیاں بھی ہوئیں۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر کی بھی تلاشی ہوئی جیسا کہ میں نے