خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 335
335 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چہارم نے وہی اپنی داستان جو پہلے لکھوائی ہوئی تھی اور جو پہلا بیان تھا وہی دو ہرایا۔سپر نٹنڈنٹ صاحب نے کہا تم وقت ضائع نہ کرو۔تمہیں اب واپس ان کے پاس نہیں جانا بلکہ یہاں سے تمہیں گورداسپور لے کر جائیں گے۔تو اتنا کہنا تھا کہ عبدالحمید جس نے کہا تھا کہ قتل کے لئے مجھے مرزا صاحب نے بھیجا ہے۔وہ زار و قطار رونے لگا اور ان کے پیروں میں پڑ گیا اور صاف بیان دیا کہ یہ سب کچھ میں ان لوگوں کے کہنے بیان دے رہا ہوں۔اس کے علاوہ اس کے خلاف دوسری گواہیاں بھی کچھ عرصے بعد عدالت میں پہنچ کیں۔تو بہر حال اس طرح اس نے اپنا بیان بدل دیا۔اور جب وہ سارا بیان دوبارہ عدالت میں آیا تو جیسا کہ بیان ہو چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حج نے بری کر دیا“۔( ملخص از تاریخ احمدیت جلد اول صفحه 631 تا 633 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) دوسرا مقدمہ ( وقت کے لحاظ سے مختصر کر رہا ہوں ) جس کا ذکر آپ نے کیا ہے مولوی محمد حسین بٹالوی کی درخواست پر ڈوئی صاحب کی عدالت میں پیش ہوا تھا جبکہ اس کی رپورٹ اور درخواست بھی مولوی محمد حسین کی طرف سے دلوائی گئی تھی۔اس مقدمہ کی بھی لمبی تفصیل ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف یہ درخواست دی تھی کہ آپ مجھے قتل کروانا چاہتے ہیں۔اور اس کی بنیاد ایک مباہلہ کا چیلنج بنایا۔بہر حال حکومتی مشینری کی بھی بہت سی گواہیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف وہاں پیش کی گئیں۔پولیس نے بڑی کوشش کی اور اس مقدمے کے لئے ہر جگہ جائے اتنا شور مچایا گیا کہ مولوی صاحب نے جیب میں چاقو رکھا ہوتا تھا وہ لوگوں کو دکھاتے تھے اور بھڑکاتے تھے۔مقدمے کی فیس کے لئے لوگوں سے پیسے بھی اکٹھے کئے گئے۔بڑی رقم اکٹھی ہوگئی۔اور پھر اس میں مدد کے لئے ہندو اور عیسائی بھی آگئے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سب باتوں کے باوجود کوئی فکر نہ تھی۔آپ نے ایک احمدی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ : ” یہ آخری ابتلاء ہے جو محد حسین کی وجہ سے پیش آ گیا ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے راضی ہیں اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔مخالفوں نے اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیا ہے اور خدا تعالیٰ کے کام فکر اور عقل سے باہر ہیں“۔مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ اول مکتوب نمبر 65 صفحہ 25 بار اول بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 39 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) اس مقدمے میں بھی دشمن نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔بڑے تفصیلی بیان ہوئے۔جیسا کہ میں نے کہا اس کی بڑی لمبی تفصیل ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا تھا کہ آپ کی بریت ہوگی۔چنانچہ اپنے ایک خط میں جو آپ نے حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو لکھا۔آپ فرماتے ہیں کہ اب فوجداری مقدمے کی تاریخ 14 فروری 1899ء ہوگئی ہے دراصل بات یہ ہے کہ اب تک یہی معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کی نیت بخیر نہیں۔جمعہ کی رات مجھے یہ خواب آئی ہے کہ ایک لکڑی یا پتھر کو میں نے