خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 333 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 333

333 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 خطبات مسرور جلد چهارم قوموں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے اتفاق کر لیا تھا۔مسلمانوں کی طرف سے مولوی محمد حسین صاحب ایڈووکیٹ ، موحدین تھے۔اور ہندوؤں کی طرف سے لالہ رام بھجدت صاحب وکیل تھے۔اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب تھے۔اور جنگ احزاب کی طرح بالاتفاق ان قوموں نے میرے پر چڑھائی کی تھی۔لیکن خدا تعالیٰ نے مجسٹریٹ ضلع کو ایسی روشن ضمیری بخشی کہ وہ مقدمہ کی اصل حقیقت تک پہنچ گیا۔پھر بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ خود عبد الحمید نے عدالت میں اقرار کر دیا کہ عیسائیوں نے مجھے سکھلا کر یہ اظہار دلایا تھا ورنہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے کہ مجھے قتل کے لئے ترغیب دی گئی تھی۔اور صاحب مجسٹریٹ ضلع نے اسی آخری بیان کو صحیح سمجھا اور بڑے زور شور کا ایک چٹھا لکھ کر مجھے بری کر دیا اور خدا تعالیٰ کی یہ عجیب شان ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری بریت کو مکمل کرنے کے لئے اسی عبدالحمید سے پھر دوبارہ میرے حق میں گواہی دلائی تا وہ الہام پورا ہو جو براہین احمدیہ میں آج سے ہیں برس پہلے لکھا گیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ فَبَرَّأَ هُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوْا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيْهَا یعنی خدا نے اس شخص کو اس الزام سے جو اس پر لگایا جائے گا بری کر دیا ہے یعنی بری کر دیا جائے گا“۔اب دیکھو کہ اس بندہ درگاہ کی کیسی صفائی سے بریت ثابت ہوئی۔ظاہر ہے کہ اس مقدمہ میں عبدالحمید کے لئے سخت مضر تھا کہ اپنے پہلے بیان کو جھوٹا قرار دیتا۔کیونکہ اس سے یہ جرم عظیم ثابت ہوتا ہے کہ اس نے دوسرے پر ناحق ترغیب قتل کا الزام لگایا۔اور ایسا جھوٹ اس سزا کو چاہتا ہے جو مر تکب اقدام قتل کی سزا ہوتی ہے۔اگر وہ اپنے دوسرے بیان کو جھوٹا قرار دیتا جس میں میری بریت ظاہر کی تھی تو اس میں قانونا سزا کم تھی۔لہذا اس کے لئے مفید راہ یہی تھی کہ وہ دوسرے بیان کو جھوٹا کہتا مگر خدا نے اس کے منہ سے سچ نکلوا دیا۔جس طرح زلیخا کے منہ سے حضرت یوسف کے مقابل پر اور ایک مفتری عورت کے منہ سے حضرت موسٹی کے مقابل پر سچ نکل گیا تھا۔سو یہی اعلیٰ درجہ کی بریت ہے جس کو یوسف اور موسیٰ کے قصے سے مماثلت ہے۔اور اسی کی طرف اس الہامی پیشگوئی کا اشارہ تھا کہ بَراً هُ اللهُ مِمَّا قَالُوْا۔کیونکہ یہ قرآن شریف کی وہ آیت ہے جس میں حضرت موسیٰ کی بریت کا حال جتلانا منظور ہے۔غرض میرے قصے کو خدا تعالیٰ نے حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ کے قصے سے مشابہت دی اور خود تہمت لگانے والے کے منہ سے نکلوا دیا کہ یہ تہمت جھوٹ ہے۔پس یہ کس قدر عظیم الشان نشان ہے اور کس قدر عجائب تصرفات الہی اس میں جمع ہیں۔فالحمد لله على ذالك“۔تریاق القلوب ، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 341-351) کپتان ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس مقدمہ سے بری فرمایا تھا ان پر کس طرح اس دوران میں تصرف الہی ہوا۔اس کا بیان ایک غیر از جماعت نے یوں دیا ہے۔