خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 332
خطبات مسرور جلد چہارم 332 خطبہ جمعہ 07 جولائی 2006 وارنٹ جاری ہوا تھا وہ صرف ایک پیشی ہو گئی کہ آکر وضاحت کر دیں۔اور مولوی اس خوشی میں تھے کہ وارنٹ جاری ہو چکا ہے اور ان کا خیال تھا کہ امرتسر کی عدالت میں ہی ہے۔ریل پر جاتے بھی تھے کہ جا کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذلت دیکھیں۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ مولوی حضرات : ” لہذا اس تماشا کے دیکھنے کے لئے آئے کہ یہ شخص وارنٹ سے گرفتار ہو کر آئے گا۔اور اس کی ذلت ہماری بہت سی خوشی کی باعث ہوگی اور ہم اپنے نفس کو کہیں گے کہ اے نفس اب خوش ہو کہ تو نے اپنے دشمن کو ذلیل ہوتے دیکھ لیا۔مگر یہ مراد ان کی پوری نہ ہوئی بلکہ برعکس اس کے خود ان کو ذلت کی تکالیف اٹھانی پڑیں۔اگست کی 10 تاریخ کو اس نظارہ کے لئے مولوی محمد حسین صاحب موحدین کے ایڈووکیٹ اس تماشا کے دیکھنے کے لئے کچہری میں آئے تھے تا اس بندہ درگاہ کو ہتھکڑی پڑی ہوئی اور کانٹیبلوں کے ہاتھ میں گرفتار دیکھیں اور دشمن کی ذلت کو دیکھ کر خوشیاں مناویں“۔(وہ حضرت مسیح موعود کے ہاتھ میں ہتھکڑی پڑی دیکھنا چاہتے تھے۔لیکن یہ بات ان کو نصیب نہ ہوسکی۔بلکہ ایک رنج وہ نظارہ دیکھنا پڑا۔اور وہ یہ کہ جب میں صاحب مجسٹریٹ ضلع کی کچہری میں حاضر ہوا تو وہ نرمی اور اعزاز سے پیش آئے اور اپنے قریب انہوں نے میرے لئے کرسی بچھوادی۔اور نرم الفاظ سے مجھ کو یہ کہا کہ گوڈاکٹر کلارک آپ پر اقدام قتل کا الزام لگاتا ہے مگر میں نہیں لگاتا۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ ڈپٹی کمشنر ایک زیرک اور دانشمند اور منصف مزاج مجسٹریٹ تھا۔اس کے دل میں خدا نے بٹھا دیا کہ مقدمہ بے اصل اور جھوٹا ہے اور ناحق تکلیف دی گئی ہے۔اس لئے ہر ایک مرتبہ جو میں حاضر ہوا وہ عزت سے پیش آیا اور مجھے کرسی دی۔اور جب میں اس کی عدالت سے بری کیا گیا تو اس دن مجھ کو عین کچہری میں مبارکباد دی۔اور اس کے مقابلے پر جو مولوی صاحب ذلت دیکھنا چاہتے تھے ان کا کیا حال ہوا؟ انہوں نے وہاں پہنچ کے کرسی مانگی تو اس کو انکار ہو گیا۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب مولوی صاحب نے کرسی مانگی تو ” صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے ان کو جھڑک دیا اور کہا کہ تمہیں کرسی نہیں مل سکتی۔یہ تو رئیس ہیں اور ان کا باپ کرسی نشین تھا اس لئے ہم نے کرسی دی۔سو جو لوگ میری ذلت دیکھنے کے لئے آئے تھے ان کا یہ انجام ہوا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ”میری عادت نہیں تھی کہ کسی کو ملوں اور نہ میرا کسی سے کچھ تعارف تھا۔پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ میں عزت کے ساتھ بری کیا گیا۔اور حاکم مجوزہ نے ایک تبسم کے ساتھ مجھے کہا کہ آپ کو مبارک ہو آپ بڑی کئے گئے۔سو یہ خدا تعالیٰ کا ایک بھاری نشان ہے کہ باوجودیکہ