خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 319
خطبات مسرور جلد چهارم 319 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء رسالہ نورالحق میں حضرت مسیح موعود نے اس کی مزید وضاحت بھی فرما دی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ: جیسا کہ تدبر کرنے والے پر پوشیدہ نہیں اور اس کی تائید وہ حدیث کرتی ہے جو دار قطنی نے امام محمد بن علی سے روایت کی ہے کہ ہمارے مہدی کے لئے دونشان ہیں وہ کبھی نہیں ہوئے یعنی کبھی کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوئے جب سے کہ زمین آسمان پیدا کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ رمضان کی رات کے اول میں ہی چاند کو گرہن لگنا شروع ہو گا۔اور اسی مہینے کے نصف باقی میں سورج گرہن ہوگا۔نور الحق حصہ دوم روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 196) پروفیسر صالح الہ دین صاحب اور پروفیسر جی ایم بالب ( یہ شاید ہندو ہیں ) نے ایک فہرست تیار کی ہے جس میں سورج اور چاند گرہن کی تفصیل بتائی ہے کہ کتنے لگے اور کس طرح لگے اور کب لگے ؟ اس میں انہوں نے دکھایا ہے کہ صرف 1894 ء کا سال ایسا ہے کہ چاند کو گرہن رات کے شروع حصہ میں لگنا شروع ہوا۔( جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ رمضان کی رات کے اول میں ہی چاند کو گرہن لگنا شروع ہوگا۔) تو انہوں نے ثابت کیا ہے کہ 1894 ء کا سال ایسا ہے کہ رات کے شروع حصہ میں لگنا شروع ہوا تو بہر حال جو عقل رکھتے ہیں، جو بینا ہیں جن کی نظر تھی ، ان کو تو نظر آ گیا کہ یہ نشان ہے۔اگر دل صاف نہ ہو تو کثرت اعجاز بھی اثر نہیں کرتی۔لیکن جن کو خدا ہدایت دینا چاہے وہ ان پڑھ اور جنگلوں میں بھی رہتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی ہدایت دے دیتا ہے۔بہت پرانی بات ہے۔غالباً 1966 ء کی۔میں سرگودھا کے علاقے میں وقف عارضی پر گیا تو ایک دور دراز گاؤں میں جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں ایک بہت بوڑھی عورت ملیں۔جب ہم نے اپنا تعارف کرایا کہ ربوہ سے آئے ہیں، احمدی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں بھی احمدی ہوں اور ہم لوگ چاند سورج گرہن کو دیکھ کر اس زمانے میں احمدی ہوئے تھے۔یہ کہتی ہیں میں چھوٹی تھی اور میرے والدین اس وقت ہوتے تھے تو اس علاقے میں بالکل جنگل میں، دیہات میں، دیہاتی ان پڑھ لوگ بھی چاند سورج گرہن کا نشان دیکھ کر احمدی ہو گئے۔تو اللہ نے بہت سوں کو اس زمانے میں بھی اس نشان سے ہدایت دی تھی۔پھر جیسا کہ میں نے کہا بعض ایسے نشانات ہیں جن کا ظہور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی تائید میں زمین پر ہوا اور ہوتا چلا جا رہا ہے۔اور وہ ہیں زلزلے اور طاعون۔یہ ثابت شدہ حقیقت ہے اور اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد سے زلزلوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے۔اس طرح طاعون نے بھی آپ کے زمانے میں تباہی مچائی اور آج کل ایڈز بھی طاعون کی ایک قسم ہے تو ہر سال اس سے بھی لاکھوں افراد موت کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔kh5-030425