خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 318
خطبات مسرور جلد چہارم 318 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : یہ حدیث ایک پیشگوئی پر مشتمل تھی جو اپنے وقت پر پوری ہو گئی۔پس جبکہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا تو اس کی صحت میں کیا کلام ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 293-294) اس کی صحت پر اب کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔تو جنہوں نے نہ ماننا ہو ان کے پاس تو سو بہانے ہوتے ہیں۔جو ضد میں بڑھ جائیں اور عقل پر پردے پڑ جائیں ان کو اللہ تعالیٰ کی واضح تائیدات بھی نظر نہیں آتیں اور یہ ضدی طبیعتیں ہر زمانے میں پیدا ہوتی رہتی ہیں، آج بھی یہ ضدی طبیعتیں موجود ہیں۔گزشتہ دنوں ایک صاحب جن کا نام (ویسے یہ تو عیسائی ہیں ) Dr۔David McNaughtan ہے۔انہوں نے انٹرنیٹ پر ایک مضمون لکھا کہ Flaws in the Ahmadiya Eclipse Theory۔یعنی جماعت احمدیہ کے گرہن کے نظریہ کے سقم۔یہ پتہ نہیں کہ ان صاحب کو خود ہی اس تحقیق کا خیال آیا یا کسی مسلمان کے کہنے پر۔کیونکہ انہوں نے آخر پر جو ریفرنس دیئے ہوئے ہیں اس میں کویت کے کسی صاحب نے معلومات دی ہیں ان کا بھی حوالہ ہے۔تو بہر حال جو بھی صورت ہو انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سورج گرہن کے لئے جو درمیانی دن رکھا گیا ہے اس میں سورج گرہن نہیں لگ سکتا۔اور اس طرح چاند گرہن کی بھی پہلی تاریخ 13 نہیں بنتی بلکہ 12 بنتی ہے۔بہر حال یہ ایک لمبی بحث ہے لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آپ کی مدد کے لئے لوگوں میں سے بھی سلطان نصیر کھڑا کر تا رہے گا۔ہمارے پروفیسر صالح الہ دین صاحب حیدر آباد انڈیا کے ہیں۔انہوں نے ان صاحب کے اٹھائے گئے سوالات کے جواب دیئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ ان کو غلطی لگی ہے۔دراصل تاریخیں یہی بنتی ہیں، یا کم از کم اس زمانے میں قادیان میں جو چاند سورج گرہن نظر آیا اس کی یہ تاریخیں تھیں۔لیکن اصل چیز جو دیکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ دعویٰ کے وقت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ دعویٰ پہلے موجود تھا اس وقت یہ تائیدی نشان ظاہر ہوا جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔بہر حال مکرم صالح الہ دین صاحب کا مضمون ایک اچھا علمی مضمون ہے۔انٹرنیٹ پر امید ہے انشاء اللہ آ جائے گا۔یہ ذکر میں نے اس لئے ساتھ کر دیا کہ بعض لوگوں کو ڈاکٹر ڈیوڈ صاحب کا مضمون پڑھ کر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ اگر اور احمدی بھی اس فیلڈ میں ہوں ان کو بھی مزید تحقیق کرنی چاہئے اور ثابت کرنا چاہئے۔دوسرے یہ مضمون انہوں نے لکھ کے اس کا کافی حد تک رد کیا ہے۔kh5-030425