خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 306
خطبات مسرور جلد چهارم 306 خطبہ جمعہ 23 / جون 2006 ء قسم کی فکر کا کوئی شائبہ تک نہ پیدا ہوا۔چنانچہ اگلے آنے والے وقت نے بتایا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی نصرت سے دل پر از یقین تھا۔اللہ تعالیٰ نے بھی کسی طرح نصرت فرمائی۔فوراً مکڑی کو حکم دیا کہ غار پر جہاں درخت لگا ہوا تھا اس کے اوپر جالائن دو۔اور کبوتر کو حکم ہوا کہ گھونسلہ بھی بنا دو اور انڈے دے دو۔تو اللہ تعالیٰ نے یہ حفاظت اور نصرت کے جو فوری سامان فرمائے تھے یہ غیر معمولی نشان تھا۔قریش جب تعاقب کرتے ہوئے غار کے قریب پہنچے تو وہاں پہنچ کر دیکھ رہے تھے کہ پاؤں کے نشان تو یہاں تک آ رہے ہیں اور اکثر نے کہا کہ یہاں آ کر یا تو ان لوگوں کو زمین نگل گئی ہے یا آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔ایسی صورت حال میں وہ غار میں نہیں جاسکتے جبکہ مکڑی نے جالا بھی بنا ہوا ہے اور گھونسلہ بھی ہے۔اس صورت میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔چنانچہ کسی کو غار میں جھانکنے کا خیال ہی نہیں آیا۔اور کسی نے کہا بھی تو دوسروں نے اس کو رڈ کر دیا۔تو کفار کے دل میں غار میں نہ جھانکنے کا یہ خیال آنا بھی اللہ تعالیٰ کی اس نصرت کی وجہ سے تھا جو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرما رہا تھا۔یہ لوگ اتنا قریب تھے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے شدید گھبرا گئے تھے۔لیکن آپ نے فرمایا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبۃ : 40) کوئی فکر نہ کر واللہ ہمارے ساتھ ہے۔تو یہ دوسرا موقع تھا جب دشمن قریباً آپ کے سر پر پہنچ گیا تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا تعالیٰ کی مدد پر اتنا یقین تھا کہ کوئی پرواہ نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دوسرے واقعہ کا ذکر فرمایا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو تائید فرماتے ہوئے اس خطرناک حالت سے نکالا۔پھر تیسرا واقعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان کیا ہے وہ احد کی لڑائی کا ہے۔یہ ایسا موقع ہے کہ اللہ اپنے خاص بندوں کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے ورنہ اُس وقت جو حالات تھے وہ ایسے تھے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی دنیا دار اس سے بچ کر نکل سکے۔اس جنگ میں مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے جب جنگ کا پانسہ پلٹا اور کفار نے دوبارہ حملہ کیا تو ایک افراتفری کا عالم تھا۔اُس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد صرف چند جاں نثار صحابہ رہ گئے تھے۔لیکن کفار کے بار بار کے حملے جو ایک ریلے کی صورت میں ہوتے تھے وہ بھی اتنے سخت ہوتے تھے کہ یہ چند لوگ بھی سامنے کھڑے نہیں رہ سکتے تھے، ایک طرف بٹ جاتے تھے اس وجہ سے تتر بتر ہو جاتے تھے۔اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ جاتے تھے۔اس موقع پر تیروں کی بارش بھی آپ پر ہوئی جو صحابہ میں سے زیادہ تر حضرت طلحہ نے اپنے ہاتھ پر لی۔اور تلواروں سے بھی حملے ہوئے اور اسی موقعے پر جب صحابہ ادھر ادھر ہوئے تو اس وقت جو بھی تلواریا تیر آتا تھا اللہ تعالیٰ اس سے بچالیتا تھا تا ہم دو پتھر دشمن کے پھینکے ہوئے آپ کو لگے اور آپ زخمی ہو گئے۔kh5-030425