خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد چهارم 24 گواہ بنا کر بھیجا ہے کہ کم از کم تم میرے اسلام کے شاہد رہو گے۔خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء (اصحاب احمد۔جلد نمبر 9 صفحہ 63 ) مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری، مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو مخاطب کر کے بیعت کے فوائد بیان کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم کی جو عظمت اب میرے دل میں ہے، خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت جو میرے دل میں اب ہے پہلے نہ تھی۔یہ سب حضرت مرزا صاحب کی بدولت ہے۔(اصحاب احمد جلد نمبر 14 صفحہ 56 ) پھر مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کا نمونہ ہے۔آپ نے اپنے قصبہ مرالی میں پہنچ کر اپنی بیعت کا اعلان کیا۔اس پر قصبے میں شور برپا ہو گیا۔اور شدید مخالفت کا آغاز ہو گیا۔اہل حدیث مولویوں کی طرف سے مقاطعہ کرا دیا گیا۔لوگ آپ کو کھلے بندوں گالی گلوچ دیتے تھے۔ایسے کٹھن مرحلے پر مولانا صاحب آستانہ الہی پر جھکنے اور تہجد میں گریہ وزاری میں مصروف ہونے لگے اور خدا تعالیٰ نے آپ پر رؤیا و کشوف کا دروازہ کھول دیا اور یہ امر آپ کے لئے بالکل نیا تھا۔اس طرح آپ کے لئے تسلی کے سامان ہونے لگے۔سواب آپ کے ایمان و عرفان میں ترقی ہونے لگی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ عشق و وفا بھی بڑھنے لگا اور آپ دیوانہ وار تبلیغ میں لگ گئے۔جس پر آپ کے ماموں نے جو خسر بھی تھے آپ کو گھر سے نکل جانے پر مجبور کیا اور پولیس سے اس بارے میں استمداد کی بھی دھمکی دی۔اس لئے آپ موضع بقا پور چلے آئے جہاں آپ کی زمینداری کے باعث مقاطعہ تو نہ ہوا لیکن مخالفت پورے زور سے رہی۔عوام کے علاوہ آپ کے والدین اور چھوٹا بھائی بھی زمرہ مخالفین میں شامل تھے البتہ بڑے بھائی مخالف نہ ہوئے۔ایک روز آپ کی والدہ نے آپ کے والد سے کہا کہ آپ میرے بیٹے کو کیونکر بُرا کہتے ہیں وہ پہلے سے زیادہ نمازی ہے۔والد صاحب نے کہا مرزا صاحب کو جن کا دعویٰ مہدی ہونے کا ہے مان لیا ہے۔والدہ صاحبہ نے کہا امام مہدی کے معنی ہدایت یافتہ لوگوں کے امام کے ہیں۔ان کے ماننے سے میرے بیٹے کو زیادہ ہدایت نصیب ہو گئی ہے جس کا ثبوت اس کے عمل سے ظاہر ہے اور مولوی صاحب کو اپنی بیعت کا خط لکھنے کو کہا۔آپ تبلیغ میں مصروف رہے اور ایک سال کے اندر پھر والد صاحب اور چھوٹے بھائی اور دونوں بھا بھیوں نے بھی بیعت کر لی۔اور بڑے بھائی صاحب نے خلافت احمد یہ اولی میں بیعت کر لی۔اصحاب احمد جلد نمبر 10 صفحہ 215 ) حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی کے بارے میں حضرت مولوی عبد المغنی صاحب لکھتے ہیں kh5-030425