خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 291 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 291

خطبات مسرور جلد چهارم 291 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء فرمایا تھا کہ ہندوستان میں مسجد میں تعمیر نہ کرو یا فلاں علاقے میں نہ کرو، بلکہ ہر جگہ مسجدیں تعمیر کرنے کا آپ نے اظہار فرمایا تھا۔حالانکہ اس وقت بھی ہندوستان میں مسجد میں بنائی جا رہی تھیں اور آج بھی بنائی جا رہی ہیں۔لیکن یہ جو مسجد میں جماعت احمدیہ کے علاوہ کہیں بنائی جاتی ہیں یا موجود ہیں یہ مسجد میں اس زمانے کے امام کا انکار کرنے والوں کی ہیں اور انکار کرنے والوں کی طرف سے بنائی جارہی ہیں۔تقویٰ پر بنیا در کھتے ہوئے نہیں بنائی جارہی ہوتیں۔یہ اس لئے بنائی گئی تھیں ، بنائی جارہی تھیں اور بنائی جارہی ہیں کہ فلاں فرقے کی مسجد اتنی خوبصورت ہے اور اتنی بڑی ہے ہم نے بھی اس سے بہتر مسجد بنانی ہے یا اور بہت سی مساجد کے اماموں کی ذاتی دلچسپیاں ہیں جن کی وجہ سے مسجد میں بڑی بنائی جاتی ہیں۔جن کو مجھے اس وقت چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔لیکن جماعت احمدیہ کی جو مسجد بنتی ہے۔وہ نہ تو دنیا دکھاوے کے لئے بنتی ہے اور نہ دنیا دکھاوے کیلئے بنی چاہئے۔وہ تو قربانیاں کرتے ہوئے قربانیاں کرنے والوں کی طرف سے بنائی جانے والی ہونی چاہئے۔اور اس تصور، اس دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی جاتی ہے اور کی جانی چاہئے کہ اے اللہ اسے قبول فرمالے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کو آباد کرنے والے بھی ہوں اور ان لوگوں میں شامل ہوں جن کے بارے میں تو فرما چکا ہے کہ یہ آیت جسکی میں نے تلاوت کی ہے کہ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخر اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر ایمان لائے۔اور پھر وَاقَامَ الصَّلوةَ وَآتَى الزَّكوة اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے۔وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا الله اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔فَعَسَى أَوْلَئِكَ أَنْ يَكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (التوبۃ :18) پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کئے جائیں۔پس ہمیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ اے اللہ میں کامل مومن بندہ بنا کیونکہ مومن بنا بھی تیرے فضلوں پر ہی منحصر ہے، تیرے فضلوں پر ہی موقوف ہے۔آخرت پر ہمارا ایمان یقینی ہو۔جب تیرے حضور حاضر ہوں تو یہ خوشخبری سنیں کہ ہم نے مسجد میں تیری خاطر بنائی تھیں۔تیری عبادت ہر وقت ہمیشہ ہمارے پیش نظر تھی اور تیرے دین کا پیغام دنیا تک پہنچانا ہمارے مقاصد میں سے تھا۔پس اسی لئے ہم مسجد میں بناتے ہیں اور بناتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے ہم نمازوں کی طرف توجہ دیتے رہے۔کوئی نام نمود، کوئی دنیا کا دکھاوا ہمارا مقصد نہ تھا۔اے اللہ ہماری تمام مالی قربانیاں تیری خاطر تھیں کہ تیرا نام دنیا کے کونے کونے میں پہنچے اور تیرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں سر بلند ہو۔اور تیرا تقوی ہمارے دلوں میں اور ہماری نسلوں کے دلوں میں قائم ہو اور ہمیشہ قائم رہے۔تو نے ہمیں ہدایت دی کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا۔اس کو ماننے کی ہمیں توفیق عطا فرمائی۔جس کو ٹو نے اس زمانے میں دوبارہ دین اسلام کی حقیقی kh5-030425