خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 290 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 290

290 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم جس کے بعد پھر کچھ تیزی پیدا ہوئی اور چند مساجد بنیں یا سنٹر خریدے گئے۔پھر 2003 ء میں جب میں پہلی دفعہ یہاں جلسہ پر آیا تو امیر صاحب نے چند مساجد کا افتتاح مجھ سے کروایا۔اس وقت میں نے امیر صاحب کو کہا تھا کہ آئندہ جب میں آؤں تو کم از کم پانچ مساجد تیار ہوں۔یا جتنی جلدی آپ پانچ مساجد تیار کر لیں گے اس وقت میں اپنا جرمنی کا دورہ رکھ لوں گا۔بہر حال یہ کام اب تیزی سے جاری رہنا چاہئے۔تو بہر حال جماعت جرمنی نے اس طرف پھر توجہ کی اور نتیجہ جب میں 2004ء کے جلسے پر آیا تو پانچ مساجد کا افتتاح ہوا۔بعض لوگوں میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ یہ ٹارگٹ بہت بڑا ہے، اس کو ہم پورا نہیں کر سکتے تو اس وجہ سے بلا وجہ کی ہماری سبکی ہورہی ہے اور ان کے خیال میں میری نظر سے جماعت جرمنی گر رہی ہے۔یہ بالکل غلط سوچ اور خیال ہے۔مسجد کی تعمیر کا جو ٹارگٹ آپ کو دیا گیا، جس کو آپ نے قبول کر لیا اس کو پورا کرنے کی کوشش کریں، اور اسے پورا کرنا چاہئے۔ہر سال 10 مساجد کی تعمیر کی بجائے میں نے ہر سال 5 مساجد کی تعمیر کا جوٹارگٹ دیا ہے، اس کو پورا کریں۔یہ کہہ کر کہ مساجد کی تعمیر بہت مشکل کام ہے اس سے بہر حال آپ نے پیچھے نہیں ہٹنا۔انشاء اللہ تعالی۔مومن کی یہ شان نہیں ہے۔اگر ٹارگٹ سامنے نہیں رکھیں گے تو پھر آپ لوگ بالکل ڈھیلے پڑ جائیں گے۔یہ سوچ جو پیدا ہو رہی ہے کہ جو رقم جمع ہوئی ہے یا ہو رہی ہے اس سے مسجد کی بجائے کچھ اور منصوبے شروع کئے جائیں جس سے جماعت کو زیادہ فائدہ ہوگا۔یہ بالکل غلط خیال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد ہمیں ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جہاں تم جماعت کی ترقی چاہتے ہو وہاں مسجد کی تعمیر کر دو۔الفاظ میرے ہیں، کم و بیش مفہوم یہی ہے۔تو اگر اس سوچ کے ساتھ مسجدیں بنائیں گے کہ آج اسلام کا نام روشن کرنے کے لئے اور آج اسلام کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے لئے ہم نے ہی قربانیاں کرنی ہیں اور کوشش کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی مدد فرمائے گا ، اور ہمیشہ فرماتا ہے، فرما تا رہا ہے۔اور اس وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والے بھی ہوتے ہیں، اس کے فضل کے نظارے بھی ہم دیکھتے ہیں۔اگر یہ دعا کریں گے کہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ﴾ (البقرة : 128) اے ہمارے رب ہماری طرف سے اسے قبول کر لے جو بھی قربانی کی جارہی ہے۔تو یقینا یہ دعا کبھی ضائع نہ ہوگی۔اور آپ کو اپنا یہ خیال خود بخود غلط معلوم ہوگا کہ مسجدوں کے منصوبوں کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ کچھ اور منصوبے ہمیں کرنے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا صرف جوش دلانے کے لئے نہیں تھا بلکہ ایک درد تھا، ایک تڑپ تھی ، ایک خواہش تھی کہ دنیا میں اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے اور اسلام کی خوبصورت تعلیم پھیلانے کے لئے مساجد کی تعمیر کی جائے۔جب آپ نے یہ ارشاد فرمایا آپ نے یہ نہیں kh5-030425