خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 289

خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء 289 (24) خطبات مسرور جلد چہارم تعمیر مساجد کی اہمیت اور برکات اور ہماری ذمہ داری جماعت احمد یہ جرمنی کو مساجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور ہر سال کم سے کم پانچ مساجد تعمیر کرنے کی تحریک فرمودہ مورخہ 16 جون 2006 ء ( 16 احسان 1385 ش) بیت السبوح - فرینکفورٹ (جرمنی) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَآتَى الزَّكَوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أَوْلَئِكَ أَنْ يَكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ﴾ (التوبة: 18) اس وقت میں آپ کے سامنے دو باتیں رکھنا چاہتا ہوں، توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ان میں سے پہلی بات تو مساجد کی تعمیر کے بارہ میں ہے۔جماعت جرمنی کے سپر د حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک کام کیا تھا اور اس بات کا اظہار فرمایا تھا کہ اتنے سالوں میں (چند سال کا معین ٹارگٹ دیا گیا تھا ) ، 100 مساجد تعمیر کرنی ہیں۔اور یہ پہلا ٹارگٹ 1989ء میں دیا تھا اور میرا خیال ہے کہ اس وقت یہ ٹارگٹ جماعت جرمنی کے افراد کی تعداد اور ان کی استطاعت کا اندازہ لگا کر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا کہ دس سال میں سو مساجد بنانی ہیں۔بہر حال جب ایک عرصہ گزرگیا اور یہ ٹارگٹ پورا نہ ہوا۔یا اس کی طرف اُس طرح پیشرفت نہ ہوئی جس کی انہیں توقع تھی تو پھر 1997 ء کے جلسے میں انہوں نے اس طرف توجہ دلائی۔kh5-030425