خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 284
284 خطبہ جمعہ 09 جون 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم کو ماننے والے ہیں اور اس کی عبادت کرنے والے ہیں بلکہ امام الزمان ، اس کے خلیفہ اور اس کے نظام کے آگے یوں سرڈالنا ہوگا کہ انانیت کی ذراسی بھی ملونی نظر نہ آئے، کچھ بھی رمق باقی نہ رہے۔ورنہ تو یہ انانیت کے بُت اس نظام کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے بلکہ پھر یہ خلیفہ وقت کے مقابلے پہ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہاں سے بھی اطاعت سے باہر نکل جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کے مقابلے پر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور وہی شخص جو یہ خیال کر رہا ہوتا ہے کہ میں سب سے بڑا موحد ہوں، خدا کی عبادت کرنے والا ہوں، شرک کرنے والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔اللہ کرے کہ ہر احمدی اس شرک سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے والا ہو۔اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اپنے نفس کی خواہشات اور اناؤں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور وہ نمونے قائم کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی جماعت میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: یہ سچی بات ہے کہ کوئی قوم ، قوم نہیں کہلا سکتی اور ان میں ملیت اور یگانگت کی روح نہیں پھونکی جاتی جب تک کہ وہ فرمانبرداری کے اصول کو اختیار نہ کرے۔فرمایا کہ اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ نے حکم دیا ہے۔اب اللہ اور رسول کی اطاعت کے بعد اولوالامر کی اطاعت ہے اور اولوالامر میں نظام جماعت کا ہر شخص شامل ہے۔ایک احمدی بھی جو عہد یدار نہیں ہے اور وہ بھی جو عہدیدا ر ہے۔ہر عہدیدار اپنے سے بالا عہد یدار کی اطاعت کرے۔ہر احمدی ہر عہدیدار کی اطاعت کرے۔فرمایا کہ: اگر اختلاف رائے کو چھوڑ دیں اور ایک کی اطاعت کریں جس کی اطاعت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے پھر جس کام کو چاہتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے۔اس میں یہی تو ستر ہے۔یہی ایک راز ہے، یہی اصل بات ہے اور یہی جڑ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو حید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے“۔،، الحکم جلد 5 نمبر 5 مورخہ 10 فروری 1901 صفحہ 1) پس یہ اطاعت کے معیار ہیں جو ایک احمدی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس سے توحید کا قیام ہونا ہے۔پس اس کے لئے ہر احمدی کو، ہر مرد کو، ہر عہد یدار کو، ہر ممبر جماعت کو ، ہر مربی اور مبلغ کو کوشش کرنی چاہئے تا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے تو حید کے قیام کا جو کام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر دفرمایا ہے اس کو ہم آگے سے آگے لے جاسکیں۔انشاء اللہ۔پس جیسا کہ میں نے کہا سب سے پہلے اس کے لئے عہد یدار یا کوئی بھی شخص جس کے سپر دکوئی بھی kh5-030425