خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 283
خطبات مسرور جلد چہارم 283 خطبہ جمعہ 09 جون 2006ء کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو“۔الحکم جلد5 نمبر 19 مورخہ 24 مئی 1901 صفحہ 9) تو ہر احمدی کو یہ سوچنا چاہئے کہ حکم عمومی طور پر ہر ایک کے لئے ہے۔اس نے تو بہر حال اپنے نظام اور جو بھی عہدیدار ہے اس کی اطاعت کرنی ہے کیونکہ وہ خلیفہ وقت کا قائم کردہ نظام ہے۔لیکن عہد یداروں کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اگر اطاعت کے معیار بڑھانے ہیں تو خود بھی اطاعت کے اعلیٰ نمونے قائم کریں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نو ر اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے“۔اپنی جو نفسانی خواہشات، انائیں، جھوٹی عزتیں ہیں ان کو اطاعت کے لئے ذبح کرنا پڑتا ہے۔ہر سطح پر ہر احمدی کو ایک عام احمدی سے لے کر ( عام تو نہیں بلکہ ہر احمدی خاص ہے کیونکہ اس نے زمانے کے امام کو مانا ہے، عام سے میری مراد یہ ہے کہ ایک احمدی جو عہد یدار نہیں ہے، اس سے لے کر ) بڑی سے بڑی سطح کے عہدیدار تک، ہر ایک کو اپنی نفس کی خواہشات کو کچلنا ہوگا۔اور وہ اسی وقت پتہ لگتا ہے جب اپنے خلاف کوئی بات ہو۔جہاں تک دوسروں کے معاملات آتے ہیں، ہر ایک بڑھ بڑھ کر اپنی سچائی ظاہر کرنے کے لئے گواہیاں دے رہا ہوتا ہے۔لیکن جہاں اپنا معاملہ آجائے یا اپنے بچوں کا معاملہ آ جائے وہاں جھوٹ کو بنیاد بنالیا جاتا ہے۔فرمایا کہ: ” اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔بڑوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی۔اگر یہ نفس کو ذبح نہیں کرتے تو اس کے بغیر اطاعت ہی نہیں کرتے اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے“۔بڑے بڑے جو دعوی کرنے والے ہیں کہ ہم عبادت کرنے والے ہیں اور ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اور اللہ کو ایک جاننے والے ہیں اور اس کا تقویٰ ہمارے دل میں ہے، خوف ہے۔جب اپنے معاملے آتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تو پھر یہ سب چیزیں نکل جاتی ہیں۔پھر نفس بت بن کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔پس دیکھیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ اپنے نفس کی انا کود با نا بہت مشکل ہے۔پس اگر اللہ کی رضا حاصل کرنی ہے تو صرف زبانی نعروں سے یہ رضا حاصل نہیں ہوگی کہ ہم ایک خدا kh5-030425