خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 248
اس پرتی 248 خطبات مسرور جلد چهارم خطبہ جمعہ 19 رمئی 2006 ء Today لکھا ہوا ہے یعنی آج۔ہمارے ساتھ ہمارے ایک احمدی جغرافیہ دان تھے۔ان سے میں نے پوچھا کہ یہ کس طرح ہو گیا کہ آج کی تاریخ تو سوائے اس جگہ کے اور کہیں نہیں ہے اس کو آپ Yesterday کہہ رہے ہیں اور جہاں یہ تاریخ ابھی شروع ہونی ہے اس کو Today لکھا ہوا ہے۔انہوں نے پہلے بڑی دلیلیں دیں لیکن بعد میں چپ کر گئے۔پتہ نہیں کہ واقعی ان کو سمجھ آ گئی تھی اور چپ کر گئے تھے یا لحاظ میں چپ کر گئے تھے یا کنفیوژن تھی۔بہر حال میں نے انہیں کہا۔جو بھی ہے آپ خود پہلے پر کلیئر (Clear) ہوں پھر مجھے بتائیں کہ کیا وجہ ہے۔یہ ضمناً اس لئے میں نے ذکر کر دیا کہ مجھے تو اس کی سمجھ نہیں آئی۔جغرافیہ دان یا جو دوسرے اس کا علم رکھنے والے ہیں اگر وہ اس کی مجھے کوئی وضاحت کر سکیں جس سے اس کا جواز سمجھ آ سکے تو وہ علم میں اضافے کا موجب ہوگا۔بظاہر تو میرا خیال ہے یہ مغرب والوں کا چکر ہے کہ اپنے آپ کو Today بنایا ہوا ہے اور دوسروں کو پیچھے کر دیا۔اس جزیرے میں بھی یہاں شہریوں کے مختلف طبقات اور چرچ کے پادری جو بنیادی طور پر نیوزی لینڈ کے رہنے والے تھے ان کو بھی اسلام کے امن اور بھائی چارے کا پیغام پہنچایا۔نبی میں صووا جو ان کا لیپٹیل ہے، اس میں بھی ایک پڑھے لکھے طبقہ میں جس میں سرکاری افسران بھی تھے بعض ملکوں کے سفیر بھی تھے Reception پر بلایا ہوا تھا بلکہ اس ملک کے نائب صدر جو آجکل قائمقام صدر بھی ہیں وہ بھی اس میں آگئے۔اس میں بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم اور محبت اور بھائی چارے کے بارے میں بیان کیا۔برطانیہ کے سفیر بھی اس میں شامل ہو گئے تھے، اسی طرح آسٹریلیا اور دوسرے ملکوں کے بھی۔اچھی گیدرنگ (Gathering) تھی۔ہوتے تو یہ لوگ سیاستدان اور مذہب سے لاتعلق ہیں لیکن ان کا شاید اس حد تک فائدہ ہو جاتا ہو کہ اسلام کی کسی حد تک صحیح تصویر ان کے سامنے آ جاتی ہے اور پھر بلا وجہ جو دل کے بغض اور کینے اسلام کے خلاف ان کے دلوں میں ہوتے ہیں وہ اگر ختم نہیں ہوتے تو کم از کم کم ہو جاتے ہیں اور یہ بھی ان کو پتہ چل جاتا ہے کہ جماعت احمد یہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے والی جماعت ہے۔نجی میں ہی ایک دن میں صبح اٹھا ہوں۔فجر کی نماز کی تیاری کر رہا تھا تو پاکستان سے ناظر صاحب اعلیٰ کا فون آیا کہ خیریت ہے۔خبر آئی ہے کہ بڑا سخت سونامی (Tsunami) کا خطرہ ہے۔اس دن نیوزی لینڈ بھی جانا تھا وہاں بھی کچھ علاقوں میں خطرہ تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ زلزلے کا سارا اثر پانی کے اندر ہی دب کر رہ گیا۔خبروں میں جو بی بی سی کے ذریعہ سے میں تفصیل سن رہا تھا اس سے لگتا تھا کہ ٹونگا، جس کے قریب یہ زلزلہ آیا تھا وہ صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔نماز پر جب میں نے وہاں کے مقامی لوگوں سے پوچھا کہ ٹونگا کا کیسا علاقہ ہے تو انہوں نے بتایا کہ بالکل پلین (Plain) ہے۔تو یہاں ہماری نئی kh5-030425