خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 227
227 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم ہونے کی وجہ سے ان عورتوں کی دلچسپیاں نہ بدل جائیں۔ایمان میں مضبوطی سبھی پیدا ہوتی ہے جب اللہ تعالی سے تعلق قائم ہو۔اور پھر یہ ہے کہ اپنے دینی علم میں اضافہ کرنے کی کوشش ہو۔پس عورتوں کو بھی دینی علم سیکھنے کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے۔خاص طور پر ان پڑھ یا کم تعلیم یافتہ طبقے میں دینی علم سکھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اور پھر ایک مہم کی صورت میں ہر مرد عورت ، جوان، بوڑھا احمدیت کا پیغام پہنچانے کی کوشش میں لگ جائے اس سے جہاں آپ کی اپنی حالت بہتر ہوگی ، اپنی تربیت کی طرف توجہ پیدا ہوگی وہاں تبلیغ کے لئے بھی نئے نئے راستے کھلتے جائیں گے۔وہاں بعض خاندانوں کے یہ مسائل بھی حل ہوں گے جو احمدی بچوں کے دوسرے مذاہب میں رشتے کی وجہ سے ، شادیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ پھر علم ہونے کی وجہ سے اور اس علم کو پھیلانے کی وجہ سے خلاف تعلیم رشتوں کی طرف زیادہ رجحان نہیں رہے گا۔اور پھر اس کے ساتھ ساتھ قربانی کے معیار بھی بڑھ رہے ہوں گے۔نیوزی لینڈ میں جماعت زیادہ پرانی نہیں ہے۔تقریباً تمام لوگ ہی ابتدائی احمدیوں میں شامل ہوتے ہیں۔آپ لوگوں کو خاص طور پر اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے ، اپنی اصلاح کرنے کی طرف خاص توجہ دینی چاہئے۔اور پھر تبلیغ کے میدان میں بھی آنا چاہئے۔اپنے دینی علم کو بھی بڑھانا چاہئے۔اگر آپ یہ کوشش کریں اور اگر پلاننگ کی جائے تو جس طرح آپ کے بڑوں نے کیا جیسا کہ میں نے کہا تھا تو آپ یہ پیغام بڑی جلدی بعض جگہوں پر پہنچا سکتے ہیں۔میں پہلے رشتوں کی بات کر رہا تھا۔ضمناً یہاں یہ بھی بتا دوں کہ مجھے پتہ ہے رشتوں کے بڑے مسائل ہیں خاص طور پر لڑکیوں کے رشتوں کے کیونکہ میں نے عموماً دیکھا ہے شاید چھوٹی جگہوں پر بھی طور پر ہوں۔نجی وغیرہ میں ماشاء اللہ لڑ کیاں پڑھی لکھی ہیں۔یہاں بھی رشتے ہیں۔آسٹریلیا میں بھی اور جگہوں پر بھی ہیں۔تو اس کے لئے ایک تو جماعت کا رشتہ ناطہ کا نظام ہے اس کو فعال ہونا چاہئے۔اور ویسے اگر پتہ لگے تو باہر بھی کوشش ہو سکتی ہے۔اس لئے یہ جو آپ کے یہاں چار پانچ ملک ہیں ان میں با قاعدہ اس کا ہر جگہ ریکارڈ رکھا جانا چاہئے۔بہر حال یہ تو ضمنا بات تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیں اللہ کا قرب پانے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اس ضمن میں اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لے کر چلنے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ کی نصرت انہیں کے شامل حال ہوتی ہے جو ہمیشہ نیکی میں آگے ہی آگے قدم رکھتے ہیں۔ایک جگہ نہیں ٹھہر جاتے اور وہی ہیں جن کا انجام بخیر ہوتا ہے۔بعض لوگوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ ان میں بڑا شوق ذوق اور شدت رقت ہوتی ہے مگر آگے چل کر بالکل ٹھہر جاتے ہیں۔ایک وقت میں تو دین کی طرف بڑی توجہ ہو رہی ہوتی ہے لیکن پھر جا کے ٹھہر جاتے ہیں کیونکہ ترقی کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔اور آخر ان کا انجام بخیر نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اَصْلِحْ kh5-030425