خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 226

خطبات مسرور جلد چهارم 226 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء بھی دکھا ئیں۔یہاں تبلیغ کے لئے مختلف جگہوں پر جا کر جائزہ لیں ، چھوٹی چھوٹی جگہوں پر جائیں۔گزشتہ سالوں میں دو تین دفعہ میں اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ چھوٹی جگہوں پر پیغام پہنچانے اور قبولیت کے امکانات عموماً زیادہ ہوتے ہیں، خاص طور پر تیسری دنیا میں۔اُن کی مخالفت اگر ہوتی ہے تو لاعلمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔دنیا داری کی وجہ سے عموما نہیں ہوتی۔پھر مختلف قوموں کے لوگ ہیں، نجی میں بھی اور یہاں بھی ہیں۔آسٹریلیا میں بھی ہیں۔یہ جو سارا علاقہ ہے ان تک پہنچیں۔اُن کی زبان میں اُن کو لٹریچر دیں، ان سے مسلسل رابطے رکھیں۔تعلقات بڑھا ئیں۔پھر آپ کے اپنے اندر جو آپ کی اپنی طبیعتیں ہیں، رویے ہیں اگر ان میں بھی پاک تبدیلیاں ہوں گی تو آپ لوگ ان کو دوسروں سے مختلف نظر آئیں گے۔اور جیسا کہ میں نے کہا، جب یہ چیزیں ان کو نظر آ رہی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی آپ کی زبانوں پر ہو گا تو یہ جو مسلسل رابطے اور تعلق ہیں وہ دوسروں کو آپ کے قریب لائیں گے۔پھر ان ملکوں میں ہمارے چند بچھڑے ہوئے احمدی بھائی بھی ہیں جو لاہوری کہلاتے ہیں۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صرف مجدد مانتے ہیں اور خلافت کو نہیں مانتے۔ان میں سے بھی بعض پہلے مختلف جگہوں پہ مجھے ملے ہیں، شاید یہاں بھی ہوں ، اور بعض بڑے اچھے طریقے سے ، شرافت سے ملے۔تو ان سے بھی اگر مسلسل رابطے کے ذریعے سے ان کو بتاتے رہیں اور ان کے لئے دعائیں بھی کرتے رہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے دل بدلنے پر قادر ہے۔بہر حال یہ سب کچھ کرنے کے لئے یعنی تبلیغی میدان میں آنے کے لئے ایک تو جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا اور اس کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر رکھنا ضروری ہے۔دوسرے اس پاک تبدیلی کے ساتھ جس حد تک اپنے دینی علم کو بڑھا سکیں، ہر عمر اور ہر طبقے کے لحاظ سے اس علم کے حاصل کرنے کے لئے مختلف معیار ہوں گے تو کوشش کر کے یہ حاصل کرنا چاہئے۔پھر بعض بنیادی چیزیں ہیں جو میں نے نوٹ کی ہیں۔یہاں تو ابھی جائزہ نہیں لیا لیکن پیچھے لیتا آیا ہوں۔جماعت کے متعلق، اسلام کے متعلق جن کو بنیادی چیزیں پتہ نہیں ہیں ان کو سیکھنی چاہئیں۔عورتوں اور نو جوانوں کو بھی اس میں ہمیں شامل کرنا ہو گا۔بعض احمدی ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ احمدیت کیا چیز ہے۔کیوں احمدی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں کیا پیشگوئیاں فرمائی تھیں۔کیا کیا پوری ہو گئیں اور اس طرح کے مختلف سوال ہیں۔اور جب تک ہمارے سارے طبقے بشمول عورتیں، کیونکہ عورتوں کو ساتھ لے کے چلنا بھی ضروری ہے ان کو ساتھ لے کر نہیں چلیں گے تو مکمل کامیابیاں نہیں ہو سکتیں۔گاؤں کی رہنے والی عورتوں کو عموماً اس بارے میں علم نہیں ہوتا کہ ہم احمدی کیا ہیں؟ کیوں ہیں؟ اور اس وجہ سے پھر وہ اپنی اگلی نسلوں کو بھی نہیں سنبھال سکتیں۔نہ تبلیغ کرسکتی ہیں۔گاؤں میں رہنے والوں کی مثال تو میں نے بھی کی دی ہے یہ میرا وہاں کا جائزہ تھا۔یہاں نسبتاً پڑھی لکھی عورتیں آئی ہیں لیکن یہاں آ کر حالات بہتر kh5-030425