خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 225
خطبات مسرور جلد چہارم 225 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ الا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (الرعد: 29) کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ : ” جب انسان بچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپکو اس کے سامنے یقین کرتا ہے اس سے اُسکے دل پر ایک خوف عظمت الہی کا پیدا ہوتا ہے۔وہ خوف اُسکو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے۔( ملفوطات جلد 4 صفحہ 355 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اس معاشرے کی بے شمار مکروہات ہیں، جیسا کہ میں پہلے بتا آیا ہوں ان سے بچنے کے لئے ذکر الہی بہت ضروری ہے اور اس سے پھر عمل کرنے کی بھی توفیق ملے گی جو ایک احمدی کو دوسروں سے ممتاز کرے گی۔ایک فرق ظاہر ہوگا کہ احمدی اور غیروں میں کیا فرق ہے۔پس احمدیوں کو اپنے اندر یہ پاک تبدیلی پیدا کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے تا کہ آپ کے نمونے دیکھ کر دوسرے آپ کی باتیں سن سکیں اور جب باتیں سنیں گے تو یقینا یہ باتیں دوسروں کو اپنی طرف کھینچنے کا باعث بنیں گی۔کیونکہ اس زمانے میں آج کل کے علماء نے اسلام کی ایسی غلط تشریح کر کے جس سے اسلام کے بالکل الٹ تصویر ابھرتی ہے، اسلام کو پیش کیا ہے۔جو لوگ غیر مسلم ہیں وہ اسلام کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے جبکہ اسلام کی حقیقی تعلیم جو کہ ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے پیش فرمائی ہے، ایسی خوبصورت ہے کہ ہر کوئی اس کی طرف کھینچا چلا آتا ہے۔پس ہمیشہ یا درکھیں کہ احمدی ہونے کے بعد اپنے نیک نمونے قائم کرنا اور احمدیت کے پیغام کو پہنچانا ہر احمدی کا کام اور اس کا فرض ہے۔یہاں آپ میں سے اکثریت بھی سے آئے ہوئے احمدیوں کی ہے۔چند فیملیاں پاکستان سے بھی آئی ہوئی ہیں۔یاد رکھیں جو بھی فحچین یا پاکستانی یہاں ہیں سب کا کام اس پیغام کو پہنچانا ہے۔لیکن نبی کے حوالے سے میں بات کرتا ہوں کہ نبی میں احمد بیت کوئی چالیس پچاس سال پہلے آئی تھی اور جماعت کے وہ بزرگ جن کو جماعت میں شمولیت کی توفیق ملی انہوں نے اپنے اندر تبدیلیاں بھی پیدا کیں۔جماعت کی خاطر قربانی بھی دی اور احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے پیغام کو اپنے ہم قوموں تک بھی پہنچایا۔اور پھر دیکھ لیں تھوڑے عرصے میں انہوں نے کافی بیعتیں کروا ئیں۔اب جبکہ اُس وقت کے مقابلے میں آپ کی تعداد بھی کافی ہے، سہولتیں بھی زیادہ ہیں فجی میں بھی اور دوسری جگہوں میں بھی۔لیکن اس توجہ کے ساتھ بیعتیں کروانے کی طرف کوشش نہیں ہورہی جو پہلوں نے کی۔یہاں سے مجھی والے بھی سن رہے ہیں، اتفاق سے وقت بھی ایک ہے تو جونجی میں رہتے ہیں ان کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنی تبلیغ کی کوششوں کو تیز کریں اور اپنے عملی نمونے دکھا ئیں اپنے اندر اسلام کی صحیح روح پیدا کریں۔آپ لوگ جو یہاں بیٹھے ہیں آپ بھی اس کوشش میں رہیں۔اس پیغام کو آگے پہنچا ئیں۔اپنے عملی نمونے kh5-030425