خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 224

224 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم والوں کو حقیقی طور پر میرا ذکر کرنے والوں کو ، ان حکموں پر عمل کرنے والوں کو میں اطمینان قلب دوں گا۔دل کو چین اور سکون ملے گا۔جیسا کہ فرمایا آلا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ﴾ (الرعد: 29) یعنی سمجھ لو کہ اللہ کی یاد سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔اور یہ ذکر نمازوں کے علاوہ بھی ہونا چاہئے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہر وقت اللہ کی یاد یہ ذکر ہی ہے۔اگر اللہ کا خوف دل میں رہے تو آدمی مختلف دعا ئیں مختلف وقتوں میں پڑھتا رہتا ہے۔کئی کام اس لئے نہیں کرتا کہ اللہ کا خوف آ جاتا ہے۔تو اس بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اللہ کا ذکر صرف نمازوں میں نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی ہے۔ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہئے۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ الَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنوبِهِمْ ﴾ ( آل عمران : 192 ) یعنی عقلمند انسان اور مومن وہی ہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے بھی اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ہر وقت ان کے دل میں اللہ کی یاد ہوتی ہے۔یہ بیج مومن کی نشانی ہے کیونکہ اس ذکر سے ایمان بھی بڑھتا ہے اور انسان میں جرات بھی پیدا ہوتی ہے۔ایک اور جگہ اس بارے میں فرماتا ہے کہ یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ (الانفال:46) یعنی اے مومنو! جب تم کسی گروہ کے کسی فوج کے مقابلہ پر آؤ تو قدم جمائے رکھو۔اللہ کو بہت یاد کیا کرو تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔پس کسی برائی کے مقابلے پر کھڑا ہونے کے لئے ، دل میں جرات پیدا کرنے کے لئے ، اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا بہت ضروری۔شیطان بھی انسان کا بہت بڑا دشمن ہے۔آج کی دنیا میں دجل کے مختلف طریقے ہیں۔دجل مختلف قسم کی فوجوں کے ساتھ حملہ آور ہو رہا ہے اور ہمارے ترقی پذیر یا کم ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ ان ترقی یافتہ ملکوں میں آکر بھی اور اپنے ملک میں بھی ان کے حملوں کی وجہ سے ان کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔اور اس نام نہاد Civilized Society کی برائیاں فوراً اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔پس اُن کے حملوں سے بچنے کے لئے اور ہر قسم کے کمپلیکس (Complex) سے، احساس کمتری سے اپنے آپ کو آزاد رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کا ذکر انتہائی ضروری ہے۔اسی سے دلوں میں جرات پیدا ہوگی ، پاک تبدیلی پیدا ہوگی۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے۔فرمایا ' پس جہاں تک ممکن ہو کر الہی کرتا رہے اسی سے اطمینان حاصل ہوگا۔ہاں اسکے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا“۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 240-239 جد دید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس مستقل مزاجی سے اللہ کا ذکر کرنا چاہئے۔اگر بے صبری دکھائی جائے تو پھر اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔اگر بے صبری دکھاؤ گے تو پھر شیطان کے مقابلے کی طاقت نہیں رہے گی۔اگر راستے میں ہی چھوڑ دو گے پھر پاک تبدیلیاں پیدا نہیں ہوسکیں گی۔kh5-030425