خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 223

خطبات مسرور جلد چهارم 223 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء ہو گے۔اور جیسا کہ ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو دم غافل سو دم کا فر تو اسلام قبول کرنے کے بعد، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی جماعت میں داخل ہونے کے بعد پھر یہ غفلتیں !! بڑی فکرمندی کی بات ہے۔پس ہمیں صبح و شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنے اور اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہمارے دن ڈرتے ڈرتے بسر ہونے چاہئیں یعنی یہ فکر ہو کہ اللہ ہماری کسی زیادتی کی وجہ سے ہم سے ناراض نہ ہو جائے اور جب یہ فکر ہو گی تو یقینا اللہ تعالیٰ کا خوف بھی دل میں رہے گا اور اس کی یاد بھی دل میں رہے گی۔اس کا ذکر بھی زبان پر رہے گا اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش بھی رہے گی۔اس کی مخلوق سے اچھے تعلقات رکھنے کی طرف توجہ بھی رہے گی۔نظام جماعت سے تعلق بھی رہے گا۔خلافت سے وفا کا تعلق بھی رہے گا۔تو یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوں گی۔پھر آپ نے فرمایا ہے کہ تمہاری راتیں بھی اس بات کی گواہی دیں کہ تم نے تقویٰ سے رات بسر کی۔جب راتوں کو تقویٰ سے گزارنے کا خیال رہے گا تو ہر قسم کی لغویات اور بیہودگیوں سے انسان بچار ہے گا۔آج کی دنیا میں ہزار قسم کی برائیاں اور آزادیاں ہیں اور ایسی دلچسپیوں کے سامان ہیں جو اللہ کے ذکر سے غافل رکھتے ہیں۔پس یہ جو آج کل نام نہاد سبھی ہوئی Civilized دنیا یا سوسائٹی میں چیزیں ہیں جس کو سوسائٹی میں بڑا رواج دیا جارہا ہے اور بڑا پسند کیا جاتا ہے عورتوں مردوں کا میل ملاپ ہے، آپس میں گھلنا ملنا ہے، اٹھنا بیٹھنا ہے، نوجوانوں کا رات گئے تک مجلسیں لگانا ہے یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو اللہ کے ذکر سے دور کرنے والی ہیں۔پس ہر احمدی کو ہر وقت ایسی لغویات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا چاہئے۔ہر ایسی چیز جو آپ کے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے میں روک ہو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ چیزیں کبھی ذہنی سکون نہیں دے سکتیں۔انسان سمجھتا ہے کہ شاید یہ دنیا کی مادی چیز میں حاصل کر کے اس کو ذہنی سکون مل جائے گا حالانکہ ان دنیاوی چیزوں کے پیچھے جانے سے انہیں مزید حاصل کرنے کی حرص بڑھتی ہے اور کیونکہ ہر کوئی ہر چیز حاصل نہیں کر سکتا، اس کوشش میں بے سکونی بڑھتی چلی جاتی ہے۔پس ہر احمدی کو ہر وقت یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس کے دل کا اطمینان اللہ تعالٰی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی ضمانت بھی دی ہے۔دنیا میں بہت ساری چیزیں بیچنے والے مارکیٹ کرنے والے، دنیاوی چیزیں بنانے والے بڑے بڑے اشتہار دیتے ہیں کہ ہماری فلاں چیز خرید و تو 100 فیصدی سکون یا Satisfaction مل جائے گی ، تسلی ہوگی ، لیکن کبھی ہوتی نہیں۔جتنا بڑا چاہے کوئی دعوی کرے۔لیکن اللہ تعالیٰ یہ ضمانت دیتا ہے کہ میرا ذکر کرنے kh5-030425