خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 222
222 خطبہ جمعہ 05 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم جائے۔ایک احمدی اور غیر احمدی میں بڑا واضح فرق نظر آنے لگ جائے۔پس جو جلسہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج سے قریباً 116 سال پہلے شروع فرمایا تھا۔آج اسی کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس خواہش پر عمل کرتے ہوئے اور اُن مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے تمام احمدی دنیا میں جلسہ سالانہ منعقد کئے جاتے ہیں۔پس آپ کا جلسہ بھی اسی مقصد کے لئے ہو رہا ہے۔اس لئے سال کے دوران اگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے ان مقاصد کو حاصل نہیں کر سکے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کے لئے بیان فرمائے ہیں، جس مقصد کے لئے آپ نے جماعت احمدیہ کا قیام فرمایا ، جس مقصد کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا تھا تو یہاں جب آپ خالصتاً روحانی ماحول حاصل کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔(اس دوران ٹرین گزرنے کی آواز پر حضور انور نے استفسار فرمایا کہ یہاں سے جہاز گزرتا ہے یا ٹرین گزرتی ہے۔کہا گیا حضور ! ٹرین گزرتی ہے تو حضور انور نے فرمایا آپ کی ٹرین بھی جہاز کی طرح ہے)۔اور نہ صرف جلسہ کے ان دو دنوں میں اس بات کا خیال رکھیں بلکہ بعد میں بھی اس طرف توجہ دیتے رہیں۔تبھی ہم احمدیت کے پیغام کو احسن رنگ میں دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں بھی ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو خدا کے قریب لا سکتے ہیں۔اور اگر ہم نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا نہ کیں تو ہماری کسی بات کا اثر نہیں رہے گا۔یہ جو ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نے احمدیت کا پیغام ساری دنیا میں پھیلانا ہے اس کے لئے پہلے اپنے اندر بھی تبدیلیاں پیدا کرتی ہوں گی۔پس ہر احمدی کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ ہر وقت اس کے دل میں یہ احساس رہے کہ اب وہ احمدی ہو گیا ہے اور اگر اس میں کوئی پاک تبدیلی نظر نہ آئی تو اس کا احمدی ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، یہ احساس کہ میں احمدی ہوں اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنی ہے تب ہو گا جب ہر وقت آپ کو یہ فکر رہے گی کہ میرے ہر عمل کو خداتعالی دیکھ رہا ہے اور جب یہ احساس ہوگا کہ میرے ہر عمل کو، میرے ہر کا م کو داد یکھ رہا ہے تو پھر اس کی یاد بھی دل میں رہے گی۔پانچ وقت نمازوں کی طرف بھی توجہ رہے گی۔اور اس کے باقی احکامات پر عمل کرنے کی طرف بھی توجہ رہے گی۔اگر اللہ تعالیٰ کی تمام طاقتوں کا احساس رہے گا تو ہر وقت سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے اس کو یاد رکھیں گے۔اور اس کے ذکر سے اپنی زبانوں کو تر رکھیں گے۔اور جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری زبانیں اس کے ذکر سے چلتے پھرتے تر رہیں گی تو ہر وقت نیکی کی باتوں کا احساس دل میں رہے گا۔اور یہی نیکی کی باتوں کا احساس ہے جو پھر انسان کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔یہ احساس پاک تبدیلیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔تو یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہ توجہ دلائی ہے کہ عاجزی سے گڑ گڑاتے ہوئے اور اللہ کا خوف دل میں قائم رکھتے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہو اور صبح شام اس کی پناہ مانگو، اس سے مدد مطلب کرو کہ وہ تمہیں صحیح راستے پر چلائے۔اگر تم اس طرح نہیں کرو گے تو تم غافلوں میں شمار kh5-030425