خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 213
خطبات مسرور جلد چهارم 213 خطبہ جمعہ 28 / اپریل 2006 ء بھی اس کی عبادت کی جاوے اور اس ذاتی محبت میں جو مخلوق کو اپنے خالق سے ہونی چاہئے، یعنی جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ سے ہونی چاہئے ” کوئی فرق نہ آوے۔اس لئے ان حقوق میں دوزخ اور بہشت کا سوال نہیں ہونا چاہئے۔بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعانہ کی جاوے، پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔اُدْعُوْنِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن : 61) میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قید نہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 68 جدید ایڈ یش مطبوعہ ربوہ ) تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ اپنے دو حقوق ادا کرو، ایک اللہ کا حق جو بندے پر ہے دوسرا بندے کا حق دوسرے بندے پر یعنی کہ اللہ تعالیٰ کی جو مخلوق ہے، اس میں ایک انسان کا دوسرے انسان پر حق۔اللہ تعالیٰ کے حق کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور بے غرض ہو کر عبادت کی جائے۔یہ نہیں کہ جب کسی مشکل میں یا مصیبت میں گرفتار ہو گئے یا پڑ گئے تو اللہ کو یاد کرنا شروع کر دیا اور جب آسائش کے ، آسانی کے دن آئے ، ہر قسم کی فکروں سے آزاد ہو گئے تو دنیا میں ڈوب گئے اور خدا کو بھول گئے۔یہ نہیں ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ اس بات کا خیال ہی نہ رہے کہ ہمارا ایک خدا ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اور سب نعمتوں سے ہمیں نوازا ہے۔پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ رکھیں اور عبادت کا جو بہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے وہ پنجوقتہ نمازیں ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ﴿إِنَّنِي أَنَا اللهُ لا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي۔وَأَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (ط : 15) یقینا میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا اور کوئی معبود نہیں ، پس میری عبادت کر اور میرے ذکر کے لئے نماز کو قائم کر۔پس اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا کہ میری عبادت اور میرا ذکر نماز کو قائم کرنے سے ہی ہو گا۔اور نماز کو قائم کرنا یہ ہے کہ با قاعدہ پانچ وقت نماز پڑھی جائے اور مردوں کے لئے حکم ہے کہ باجماعت نماز پڑھی جائے۔عورتیں تو نماز گھر میں پڑھ سکتی ہیں۔یا درکھیں نماز کی اہمیت اللہ تعالیٰ نے اس قدر فرمائی ہے کہ فرمایا کہ نماز چھوڑنے والوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔پس ہر احمدی کو اپنی نمازوں کی بہت زیادہ حفاظت کرنی چاہئے۔جو بھی حالات ہوں، نمازوں کی طرف خاص طور پر توجہ دیں۔اگر آپ نماز پڑھنے والے ہوں گے تو خدا تعالیٰ سے آپ کا براہ راست تعلق پیدا ہوگا۔نہ آپ کو کسی اور وظیفہ کی ضرورت ہے، نہ کسی اور ورد کی ضرورت ہے، نہ کسی پیر فقیر کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔نماز کو ہی اپنا وظیفہ اور ورد بنالیں۔kh5-030425